انوارالعلوم (جلد 9) — Page 311
الدار العلوم جلد 9 ۳۱۱ حق اليقين اس ٹکڑہ حدیث کو نقل کر کے مصنف ہفوات یہ اعتراض کرتے ہیں۔ اول رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شان کہ جس بی بی کا دل خدا سے پھر گیا ہو اس پر آپ فریفتہ ہوں دوم جو بیوی خدا سے منحرف ہو وہ ان کی ان کی زوجیت میں رہ جائے۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔ سوم رسول اللہ پر ازواج کی یہ زیادتیاں ہوں کہ آپ کئی کئی دن غم و غصہ میں مبتلاء رہیں یعنی کار رسالت سے معطل رہیں۔ ان ہفوات کو عقل انسانی ہرگز قبول نہیں کرتی۔ چونکہ عشق کے ہیڈنگ کے نیچے یہ حدیث لکھی گئی ہے۔ اور چونکہ اعتراضات میں عشق کا ذکر نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف ہفوات کے نزدیک عشق کے اعتراض کے علاوہ مزکورہ بالا حدیث پر یہ اعتراض پڑتے ہیں۔ اس حدیث سے عشق کا مفہوم نکالنا تو مصنف ہفوات کی عقل میں ہی آسکتا ہے کیونکہ اس میں نہ عشق کا کوئی ذکر ہے نہ کوئی واقع اس میں ایسا لکھا ہے جس میں یہ اشارہ پایا جائے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ سے عشق تھا۔ ہاں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حفصہ کی نسبت زیادہ محبت تھی۔ لیکن یہ کوئی ایسی بات نہیں جس سے عشق کا نتیجہ نکالا جائے یا جس پر کسی قسم کا اعتراض ہو سکے۔ حضرت عائشہ کی نیکی۔ ان کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فدائیت اور ان کے والد کی خدمات و قربانیاں ایسی نہ تھیں کہ ان کی وقعت کو دوسری بیویوں کی نسبت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں بڑھا نہ دیتیں۔ پس اس کی وجہ سے حضرت عائشہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زیادہ محبت کرنا قابل اعتراض امر نہیں بلکہ اس قدر دانہ طرز عمل پر روشنی ڈالتا ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت ایک ممتاز نمونہ پیش کرتی ہے۔ اور اس اعتراض سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ مصنف صاحب ہفوات کی نظر میں محبت کا کوئی نہایت ہی غلط مفہوم بیٹھا ہوا ہے اور وہ اپنی جہالت کا غصہ ائمہ حدیث پر نکالنا چاہتے ہیں۔ دو سرا اعتراض بھی کہ جس بی بی کا دل خدا تعالیٰ سے پھر گیا ہو اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح فریفتہ ہو سکتے تھے۔ ایسا ہی غلط ہے جیسا کہ پہلا۔ کیونکہ قرآن کریم میں تو اس کی بجائے یہ بیان ہے کہ ان کا دل اللہ تعالیٰ کی طرف مائل تھا۔ اور وہ اس کی رضا پر چلنے کے لئے بالکل تیار تھیں مصنف ہفوات خود ہی آیت کے ایک غلط معنے کر کے ائمہ حدیث پر اعتراض کرنے لگیں تو اس میں ائمہ حدیث کا کیا قصور ہے؟