انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 312

انوار العلوم جلد 9 ۳۱۲ حق اليقين سے وہ الفاظ قرآن جن سے مصنف ہفوات نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ حضرت عائشہ کا دل خدا تعالی پھر گیا تھا۔ اتھا یہ ہیں إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا وَإِنْ تَظْهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلُهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَئِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرُ ال (ترجمہ) اگر تم الله تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ تو تمہارے دل تو جھک ہی چکے ہیں اور اگر تم دونوں اس کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو تو اللہ اس کا دوست ہے اور جبریل بھی اور مسلمانوں میں سے نیک لوگ بھی اور پھر اس کے ساتھ فرشتے بھی اس کے مددگار ہیں۔ اس آیت سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویوں کے دل خدا سے پھر گئے تھے بلکہ اس کے برخلاف یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان بیویوں کے دل اللہ تعالیٰ کی طرف جھکے ہوئے تھے۔ کیونکہ اِنْ تَتُوبَا إِلَى اللهِ کے بعد فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُما فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پچھلا فعل پہلے فعل کا باعث اور موجب ہے۔ اور یہ خیال کرنا کہ کسی شخص کا دل پھر جانا تو بہ کا موجب اور باعث ہو گا عقل کے خلاف ہے۔ دل میں خشیت کا پیدا ہونا تو بہ کا محرک ہوتا ہے نہ کہ دل کا خدا سے دور ہو جانا۔ پس فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُما کے یہ معنی نہیں ہیں کہ تمہارے دل اللہ تعالیٰ سے پھر گئے ہیں۔ بلکہ یہ معنی ہیں کہ تمہارے دل تو پہلے ہی اللہ تعالیٰ کی طرف جھکے ہوئے ہیں۔ یعنی یہی کام تمہارا اصل کام ہے اور غلطی دل سے نہیں ہوئی بلکہ سہواً ہوئی ہے۔ ان معنوں کے سوا دوسرے کوئی معنے کرنے لغت عرب اور قواعد زبان کے بالکل خلاف ہیں اور ہرگز جائز نہیں اور تعجب ہے ان لوگوں پر جو تعریفی کلمات کو ندمت قرار دیتے ہیں۔ غرض اس آیت میں تو تعریف کی گئی ہے کہ اگر اے پیو یو تم توبہ کرو تو تم اس کی اہل ہو۔ کیونکہ تمہارے دل پہلے ہی خدا کی طرف جھکے ہوئے ہیں۔ ہاں اگر توبہ نہ کرو تو ہمیں تمہاری پرواہ نہیں۔ اگر اس آیت کے وہ معنے لئے جاویں جنہیں مصنف صاحب ہفوات نے پسند کیا ہے تو یوں معنے ہوئے۔ اگر تم توبہ کرو تو تمہارے دل تو خدا سے دور ہو ہی چکے ہیں۔ اور اگر تم رسول کے خلاف کام کام کرو تو خدا اور مؤمن اور فرشتے اس کے مدد گار ہیں کیا کوئی عقلمند اس فقرہ کی بناوٹ کو درست کہہ سکتا ہے کیونکہ مقابلہ کے فقروں میں دونوں حصوں کا مقابلہ ہوتا ہے، لیکن ان معنوں کے رو سے پہلے فقرہ کے دوسرے حصہ کا مقابلہ کسی جملہ سے نہیں رہتا اور مزید برآں یہ عجیب محمل بات بن جاتی ہے کہ اگر تم توبہ کرو تو تم تو پہلے ہی گناہ کی طرف مائل ہو چکی ہو کیا گناہ کی طرف میلان کے باعث تو بہ نصیب ہوتی ہے یا خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنے سے اور اس سے تعلق پیدا