انوارالعلوم (جلد 9) — Page 310
حق الیقین ۳۱۰ انوار العلوم جلد 9 خلاف صرف ہوتی رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی جب تک کہ یہ لوگ اہل اکاذیب ہوتے ہوئے حدیث کے نام کو بد نام کرنا اور قرآن کریم پر روایات کو جو محتمل کذب و صدق ہیں۔ مقدم کرنا نہ چھوڑ دیں گے۔ دوسری روایت اس خیال کی تصدیق میں مصنف ہفوات نے بخاری کتاب التفسیر سے پیش کی ہے۔ یہ روایت ابن عباس سے مروی ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ابن عباس کہتے ہیں کہ میرے دل میں مدت سے خواہش تھی کہ میں حضرت عمر سے ایک بات دریافت کروں آخر ایک دن موقع پا کر میں نے آپ سے پوچھا کہ وہ دو عورتیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف آپس میں ایک دوسرے کی مدد کی تھی وہ کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا وہ حفصہ اور عائشہ ہیں اور پھر فرمایا کہ ہم لوگوں میں عورتیں بالکل حقیر سمجھی جاتی تھیں حتی کہ قرآن کریم میں ان کے حقوق مقرر ہوئے۔ ایک دن کسی بات کو میں سوچ رہا تھا میری بیوی نے مجھے کہا کہ اگر اس طرح کر لو تو اچھا ہے میں ناراض ہوا کہ تیرا حق کیا ہے کہ مجھے مشورہ دے اس پر میری بیوی نے کہا عَجَبًا لَّكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ مَا تُرِيدُ أَنْ تُرَاجَعَ انْتَ وَإِنَّ ابْنَتَكَ لَتُرَاجِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَظَلَّ يَوْمَهُ غَضْبَانَ فَقَامَ عُمَرُ فَأَخَذَ رِدَانَهُ مَكَانَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى حَفْصَةً فَقَالَ لَهَا يَا بُنَيَّةٌ إِنَّكِ لَتُرَاجِعِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَظَلَّ يَوْمَهُ غَضْبَانَ فَقَالَتْ حَفْصَةٌ وَاللَّهِ إِنَّا لَتُرَاجِعُهُ فَقُلْتُ تَعْلَمِينَ أَنِّي أُحَذِّرُكِ عُقُوبَةَ اللَّهِ وَ غَضَبَ رَسُولِ اللهِ اليَا بُنَيَّةٌ لَا يَغْرَ نَّكِ هُذِهِ الَّتِي أَعْجَبَهَا حُسْنُهَا حُبُّ رَسُولِ اللَّهِ إِيَّا مَا يُرِيدُ عَائِشَةَ ٣٠ ( ترجمہ ) اے ابن خطاب! تجھ پر تعجب ہے کہ تو ناپسند کرتا ہے کہ تیری بیوی تیری بات میں بولے اور تیری بیٹی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کا جواب دیتی ہے یہاں تک کہ آپ کبھی سارا سارا دن ناراض رہتے ہیں۔ یہ سن کے سن کر عمر کھڑے ہوئے اور اپنی چادر ٹھیک طرح اوڑھی اور حفصہ کے پاس آئے اور کہا کہ اے بیٹی کیا یہ سچ ہے کہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں میں بول پڑتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ دن بھر ناراض رہتے ہیں۔ حفصہ نے کہا خدا کی قسم ہم تو آپ کی باتوں کا جواب دے دیا کرتی ہیں۔ پس میں نے کہا یا د رکھ میں تجھے اللہ کے عذاب اور اس کے رسول کے غضب سے ڈراتا ہوں۔ اے بیٹی! تجھے اس بیوی کا طریق عمل دھوکے میں نہ ڈالے جسے اپنے حسن یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر ناز ہے اور اس سے ان کی مراد حضرت عائشہ سے تھی۔