انوارالعلوم (جلد 9) — Page 309
انوار العلوم جلد 9 ۳۰۹ حق الیقین سلیم کے خلاف ہونے کے غلط ہے۔ اور ان روایات سے معلوم ہوتی ہے جو عبداللہ بن ابی بن سلول کے چیلے چانٹوں کی طرف سے مشہور کی جاتی تھیں اور جن کا ذکر بعد میں منافق مسیحی اور یہودی تو مسلموں نے تازہ رکھا۔ مگر باوجود اسکے کہ یہ روایت میرے نزدیک بالکل نا قابل اعتبار اور صریح دروغ ہے اس کے پیش کرنے سے مصنف ہفوات کا جو منشاء ہے وہ کسی صورت میں پورا نہیں ہو سکتا نہ اس روایت کا جھوٹا ہونا جیسا کہ میں پہلے ثابت کر آیا ہوں محدثین کی شان کو کم کر سکتا ہے۔ اور نہ ضرورت حدیث کو باطل کر سکتا ہے اور نہ اس کے جھوٹے ہونے سے ہمارے لئے یہ جائز ہو سکتا ہے کہ اس روایت کو کتابوں میں سے نکال پھینکیں۔ اگر ہم ایسا کرنے لگیں تو بعض دوسرے لوگ اس کے مقابل میں صداقتوں کو بھی نکال کر پھینک دیں گے۔ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ احادیث کی کتب غلطی سے پاک نہیں ہیں اور نہ ہر ایک کتاب نیک نیتی سے لکھی گئی ہے کئی کتب محض مجالس وعظ کو رونق دینے کے لئے لکھی گئی ہیں مگر باوجود اس کے اس فن کے کمال تک پہنچانے والوں کی خدمت اسلام کا انکار نہیں ہو سکتا اور ہزاروں حدیثوں کے جھوٹا نکلنے پر بھی اس فن کی حقارت نہیں کی جاسکتی۔ اس وقت کوئی شخص قابل ملامت ہو سکتا ہے جب کہ وہ ان مزیل شانِ رسالت احادیث کو صحیح قرار دے اور ان کی ایسی تاویل بھی نہ کرے جس سے وہ اعتراض دور ہو جائے جو ان سے پیدا ہوتا۔ ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ علماء سلف ایسی روایات کو ہمیشہ باطل قرار دیتے چلے آئے ہیں پس صرف نقل کر دینے کے سبب وہ کسی الزام کے نیچے نہیں آسکتے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ہمیں ہر ایک قسم کی روایات لوگوں کے لئے جمع کر دینا چاہئے۔ ہاں علماء خلف بے شک اس الزام کے نیچے ہیں کہ انہوں نے ان احادیث اور روایات کو اتنا رواج نہیں دیا جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی شان ظاہر ہوتی تھی اور اپنے وعظوں کو عوام میں دلچسپ بنانے کے لئے جھوٹے قصوں اور غلط روایات کو صحیح احادیث قرار دے کر لوگوں میں خوب رائج کیا بلکہ ان کا انکار کرنے والوں کو اسلام کا دشمن اور حدیث کا دشمن قرار دیا۔ ایسے لوگوں کے طریق عمل کو ہم اس سے بھی زیادہ حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جتنا کہ مصنف صاحب ہفوات کے طریق عمل کو دیکھتے ہیں کیونکہ مصنف صاحب ہفوات نے تو ازدواج مطہرات اور صحابہ کرام اور علماء اسلام پر حملہ کیا ہے اور ان لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بد نام کرنے کی کوشش کی ہے اور عبداللہ بن ابی بن سلول کے ہم آواز ہو گئے ہیں۔ ہماری جماعت کی کوششیں شروع سے ایسے ناپاک لوگوں کے