انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 282

انوار العلوم جلد 8 AVA منقولات اسلاف کے نام نامی سے دھوکا کھا کر اپنی اپنی جامع و مسانید و صحاح و سفن و معاجم میں درج کر لیا ہے پس ان کے اخراج و احکاک و احراق کرنے میں اجر عظیم اور ثواب فخیم ہے"۔ ہفوات صفحہ ۲۔ حق اليقين اس تحریر اور خصوصاً طرز بیان سے معلوم ہو سکتا ہے کہ مصنف ہفوات کا منشاء اس کتاب کی تصنیف سے حق جوئی اور صداقت طلبی نہیں ہے بلکہ پر وہ پردہ میں آئمہ اسلام اور بزرگان دین کو گالیاں دیتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس تصنیف کے اصل مخاطب اہل حدیث صاحبان ہیں اور اگر وہی مسلک ہم اختیار کرتے جو وہ لوگ ہمارے متعلق اختیار کیا کرتے ہیں تو شائد ہمارا طریق بھی یہ ہوتا کہ ہم اس جنگ کا لطف دیکھتے اور ایک دوسرے کی فضیحت اور تحقیر کو خاموشی سے ملاحظہ کرتے لیکن چونکہ ہمارا رویہ تقوی پر مبنی ہے اور اسلام کی محافظت اور اس کے خزائن کی نگرانی کا کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے اس لئے میری غیرت نے برداشت نہ کیا کہ یہ کتاب بلا جواب کے رہے اور اسلام کے چھپے دشمن اسلام کے ظاہری دشمنوں کے ساتھ مل کر اس کے اندر رخنہ اندازی کرنے کا کام بلا روک ٹوک کرتے چلے جائیں۔ کسی مذہب کی خوبی اس کے ثمرات سے پہچانی جاتی ہے حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ ہر ایک اچھا درخت اچھا پھل لاتا ہے اور بڑا درخت بڑا پھل لاتا ہے۔ اچھا درخت بڑا پھل نہیں لا سکتا نہ بڑا درخت اچھا پھل لا سکتا ہے۔ جو درخت اچھا پھل نہیں لاتا وہ よ کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے پس ان کے پھلوں سے تم انہیں پہچان لوگے"۔ کے اگر ایک شخص دنیا کی اصلاح اور اس کے درست کرنے لئے مامور ہونے کا دعوی کرتا ہے لیکن اس کی سب کوششیں اکارت جاتی ہیں اور وہ ایک ایسی جماعت چھوڑ جاتا ہے جو بے دین اور منافق اور خدا سے دور ہوتی ہے تو یقینا اس کا دعوئی باطل ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ایک شخص کو اللہ تعالیٰ ایک کام کے لئے بھیجے اور وہ اس کام میں ناکام ہو اس کی تربیت یافتہ اور صحبت سے مستفیض ہونے والی جماعت کا بیشتر حصہ اس کے اثر سے متاثر ہونا چاہئے اور اس کی تعلیم کا حامل اور عامل ہونا چاہئے ورنہ اس کی آمد فضول اور اس کی بعثت عبث ہو جاتی ہے۔ اسی طرح یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ایک نیک اور پاک جماعت کی تربیت کے ماتحت ایک ایسی جماعت پیدا ہو جائے جو بلا تدریج شرارت اور فتنہ کا مجسم نمونہ بن جائے۔ ہمیشہ خرابی آہستگی سے پیدا ہوتی ہے جس قدر