انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 283

انوار العلوم جلد 9 ۲۸۳ حق اليقين جماعتیں دنیا میں خراب ہوتی ہیں تدریجاً ہی خراب ہوتی ہیں اور ایک نسل کے بعد دوسری نسل کمزور ہوتے ہوتے آخر اسلاف کے اثر مٹ گئے ہیں۔ پس جو شخص یہ بتانا چاہتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور ان کے بعد خدمت اسلام کرنے والے لوگ در حقیقت منافقوں کی ایک جماعت تھی اور اسلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دم تک تھایا آپ کے بعد آپ کے چند رشتہ داروں کے دلوں میں اس کا اثر محدود ہو گیا وہ یا تو قانون قدرت اور انبیاء کی شان سے بالکل ناواقف ہے یا پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پوشیدہ دشمن ہے کہ آپ کو ناکام اور نامراد ثابت کرنا چاہتا ہے اور اسلام کو ایک بے ثمر درخت اور بے اثر تعلیم بنا کر دشمنوں کو خوش کرنا اور اسلام کی وقعت کو گرانا چاہتا ہے۔ دنیائے اسلام کا بیشتر حصہ ان احادیث پر اپنی بہت سی فقہ اور تفصیلات تعلیم کا انحصار رکھتا ہے اور گو اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر احادیث کی کتب نہ ہوتیں تو اسلام کا کوئی حصہ تو مخفی نہ رہتا لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اگر یہ کتب نہ ہوتیں تو اب جس طرح ایک تدبر کرنے والے انسان کے لئے اپنے آقا کے کلام میں اپنے تدبر کی تائید دیکھ کر ایک خوشی کا سامان پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنے آپ کو عالم خیال میں اپنے محبوب کی مجلس ارشاد میں ہدایت کے موتی چنتے ہوئے پاتا ہے وہ بات نہ رہتی۔ اسی طرح تاریخ اسلام کا ایک بیشتر حصہ بھی جو مُردہ روحوں کو تازہ کرنے والا اور صدیوں کے گزرنے پر بھی استاد اور شاگرد اور آقا اور غلام اور عکس اور نل میں شدید اتصال پیدا کرنے کا موجب ہے معدوم ہو جاتا۔ غرض تکمیل دین کے لئے گو احادیث کی ضرورت نہیں لیکن فقہ اور قیاس کی رہنمائی کرنے اور اطمینان قلب اور زیادتِ تعلق کے لئے وہ ایک بیش بہا ذریعہ ہیں اور سنت سنت کے لئے بھی بطور گواہ ہیں کیونکہ گو سنت حدیث کی محتاج نہیں لاکھوں کروڑوں آدمیوں کا عمل اس پر شاہد ہے لیکن حدیث یہ گواہی تو ضرور دیتی ہے کہ سنت کا تواتر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا بھی ہے یا کوئی عمل اور طریق بعد کے لوگوں کا اختراع ہے مثلاً اس وقت کروڑوں مسلمان بدعات میں مبتلا ہیں اور وہ اپنے زعم باطل میں بھی سمجھ رہے ہیں کہ یہ کلام اسلام کا جزو ہیں اور ہمیشہ سے ہوتے چلے آئے ہیں حدیث ہمیں اس امر میں مدد دیتی ہے کہ یہ خیالات بعد میں پیدا ہوئے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک ان کا پہنچا تو الگ رہا اس زمانہ میں بھی ان رسوم کا مسلمانوں میں کچھ پتہ نہ تھا جب احادیث جمع کی جا رہی تھیں اور صاحب بصیرت کے لئے وہ موجب ہدایت ہو جاتی ہے جیسے اہل شیعہ میں تازیوں کی بد رسم ہے کہ