انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 250

انوار العلوم جلد 8 ۲۵۰ منهاج الطالبين اس کے ذہن میں قائم ہو جائے۔ اس کا یہ نتیجہ ہو گا کہ جو کام کرنے کا ہو گا اُسے یہ آسانی سے کر سکے گا اور جو چھوڑنے کا ہو گا اُسے آسانی سے چھوڑ سکے گا۔ (۸) جو باتیں جائز ہوں اور اُن کی طرف اُسے رغبت ہو۔ انہیں بعض موقعوں پر ترک کر دے تاکہ مرضی کے خلاف کام کرنے کی اُسے عادت پڑے۔ مثلاً ایک شخص کو چوری کی عادت ہو گئی ہے اور دُور نہیں ہوتی تو اُسے چاہئے کہ بعض جائز باتیں جن کی طرف اُسے رغبت ہے انہیں چھوڑنا شروع کر دے۔ مثلاً ایک وقت دل سونے کو چاہتا ہے اور نہ سوئے۔ ایک چیز کے کھانے کو چاہتا ہو اور یہ نہ کھائے۔ اس طرح دل کو طاقت حاصل ہوتی چلی جائے گی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک قول ہے میں اس کا یہی مطلب سمجھتا ہوں۔ فرماتے ہیں عَرَقْتُ رَبِّي بِفَشخ الْعَزَائِمِ کہ میں نے خدا تعالی کو پختہ ارادوں کے بار بار ٹوٹنے سے پہچانا ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ میں نے بعض ارادے کئے جو ٹوٹے۔ میں نے پھر کئے پھر ٹوٹے لیکن جب میں نے بار بار ارادوں کے ٹوٹنے کے باوجود ان کا کرنا نہ چھوڑا اور ہمت نہ ہاری تو مجھے خدا تعالیٰ مل گیا۔ پہلے ہی اگر میں ارادہ کے ٹوٹ جانے پر نا امید ہو کر بیٹھ رہتا اور پھر عزم نہ کرتا تو میں خدا تعالی کے پانے میں ناکام رہتا۔ (۹) انسان اپنے نفس کا بار بار مطالعہ کرے۔ جس طرح ایک حکیم مریض کو بار بار دیکھتا ہے اسی طرح وہ اپنے نفس کو دیکھے۔ (۱۰) مقصد بلند رکھے۔ درمیانی حالت پر قانع نہ ہو جائے۔ جو چیز لینا چاہتا ہے اس کی انتہائی حد مد نظر رکھے۔ جو شخص انتہائی درجہ کا ارادہ رکھتا ہے اُسے کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے۔ اس طرح انسان اپنے نفس پر قابو پا جاتا ہے۔ اس کوشش کے علاوہ ایک اور گھر ہے اور وہ دُعا کا گھر ہے جب انسان سے اپنی کوششوں کے ذریعہ کچھ نہ بنے تو اُسے بیرونی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلی چیز اپنی کوشش ہوتی ہے جو اندرونی امداد ہوتی ہے اور دوسری بیرونی امداد ہوتی ہے۔ انسان اپنی طرف سے کوشش کرے اور ساتھ ہی خدا تعالیٰ سے دعا کرے کہ مجھ سے تو جو کچھ ہو سکتا ہے کر رہا ہوں۔ اب آپ ہی مدد دیں تو کامیاب ہو سکتا ہوں۔ ایک بزرگ کا قصہ مشہور ہے۔ ان کا ایک شاگرد تھا جسے تصوف کا بہت شوق تھا وہ اس کے سیکھنے کے لئے بہت عرصہ ان کے پاس رہا۔ جب وہ واپس جانے لگا تو ان بزرگ نے پوچھا۔ کیا تمہارے وطن میں شیطان ہوتا ہے؟ وہ حیران ہو کر کہنے لگا۔ شیطان کہاں نہیں ہوتا۔ بزرگ