انوارالعلوم (جلد 9) — Page 249
انوار العلوم جلد و ۲۴۹ منهاج الطالبين اس (۱۲) مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ١٨ میں یہ سوچے کہ بد خیال، بد ارادے اور بد تحریکیں میرے دل میں ہرگز داخل نہیں ہو سکتیں کیونکہ میں اس امت میں سے ہوں جس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ کہ وہ کافروں کا اثر قبول نہیں کرتے بلکہ مؤمنوں کا اثر قبول کرتے ہیں۔ (۱۳) كُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ " کا ورد کرے اور اس حدیث کو سوچے لا يشقى جَلِيسُهُمْ وہ یہ خیال کرے کہ جو نیک ارادے میرے دل میں پیدا ہوتے ہیں وہ دوسروں پر اثر کرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے نیکوں کے پاس جاؤ۔ اگر میرا کسی پر اثر نہیں ہوتا تو پھر میں مؤمن نہیں ہو سکتا۔ (۱۴) اس بات پر غور کرے کہ خدا تعالیٰ نے رسول کریم کے متعلق فرمایا ہے۔ وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ أَفَائِنْ مِّتَ فَهُمُ الْخُلِدُونَ ال ہم نے نہ تجھے اور نہ کسی اور انسان کو ہمیشہ اس دنیا میں رہنے کے لئے بنایا ہے۔ انسان خیال کرے کہ جب مجھے ہمیشہ اس دنیا میں نہیں رہنا تو مجھے اپنے وقت کو ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ ان چودہ باتوں میں سے قوت ارادی کو وہ طاقت حاصل ہو جاتی ہے کہ وہ جذبات اور احساسات کو دبا لیتی ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ انسان ان باتوں پر پورے طور پر غور و فکر کرے۔ (۴) چوتھا علاج ارادے کو مضبوط کرنے یا اس کے راستہ سے روکیں دُور کرنے کا یہ ہے کہ جس عیب کو دور کرنا ہو اس پر شروع دن سے ہی یکدم حملہ کر دے۔ جب فوج کسی مقام پر حملہ کرتی ہے تو پہلے حملہ میں سارا زور صرف کر دیتی ہے اسی طرح کسی بدی کے دور کرنے کے متعلق کرنا چاہئے۔ یعنی جس بدی کو دور کرنا مد نظر ہو اس پر پورا زور صرف کرنا چاہئے۔ (۵) پانچواں علاج یہ ہے کہ جو نیک خصلت پیدا کرنی ہو اس کی عادت ڈالے یا جس خصلت کو چھوڑنا چاہے اُس کے اُلٹ عادت ڈالے۔ مثلاً اگر غصہ پیدا ہو تو نرمی کی عادت ڈالے۔ (1) فکر اور تانی کی عادت ڈالے جلد بازی سے۔ اس سے جو عادات پہلے پڑ چکی ہوں گی ان کے حملہ سے محفوظ ہو جائے گا۔ کیونکہ عادات جلد بازی سے فائدہ اٹھا کر ہی حملہ کرتی ہیں اور سوچ کے اور غور کر کے کام کرنے پر وہ حملہ نہیں کر سکتیں۔ بچے۔ اس ۔ (۷) جس بات کے کرنے یا چھوڑنے کا ارادہ کرے اس کی پوری حقیقت کو اپنے ذہن میں لانے کی کوشش کرے اور اس کے تمام پہلوؤں پر غور کرے۔ یہاں تک کہ اس کا ایک مکمل نقشہ