انوارالعلوم (جلد 9) — Page 251
انوار العلوم جلد و ۲۵۱ منهاج الطالبين نے کہا جب تم اپنے وطن پہنچو گے تو اگر شیطان نے تم پر حملہ کیا تو کیا کرو گے؟ اس نے کہا۔ میں شیطان کا مقابلہ کروں گا۔ بزرگ نے کہا۔ اچھا تم نے شیطان کا مقابلہ کیا اور وہ بھاگ گیا۔ لیکن پھر تم خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے لگے اور اُس نے پیچھے سے آپکڑا تو کیا کرو گے؟ اُس نے کہا۔ میں پھر اس کا مقابلہ کروں گا۔ بزرگ نے کہا اگر تم اسی طرح شیطان کا مقابلہ کرتے رہو گے تو خدا تعالیٰ کی طرف کس طرح متوجہ ہو سکو گے؟ اس نے کہا تو پھر آپ ہی بتائیں مجھے کیا کرنا چاہئیے؟ انہوں نے کہا۔ بتاؤ اگر تم کسی دوست کو ملنے جاؤ جس کا ایک کتا ہو جو تمہیں گھیرلے تو کیا کرو گے؟ اُس نے کہا ئیں اُسے لاٹھی مارونگا۔ انہوں نے کہا۔ کتا بھاگ کر پھر تمہارے پیچھے آپڑا تو کیا کرو گے؟ اُس نے کہا صاحب مکان کو آواز دوں گا کہ آؤ اور آکر اپنے کتے کو روکو۔ انہوں نے کہا۔ یہی طریق شیطان کے متعلق اختیار کرنا۔ خدا تعالی سے کہنا ئیں آپ کے پاس آنا چاہتا ہوں مگر شیطان مجھے آنے نہیں دیتا۔ آپ ہی اس کو دور کریں۔ پس برائیوں سے بچنے کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ انسان دعا کرے کہ الہی ! میں اپنی طرف سے کوشش کرتا ہوں آگے مدد آپ نے دیتی ہے۔ دسویں بات میں نے یہ بیان کی تھی کہ انسان اپنا مقصد بلند رکھے۔ ایک دوست نے اس کے متعلق سوال کیا ہے کہ کیا بلند خواہشات بھی جائز ہیں؟ میرے نزدیک یہ جائز نہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے بھی لکھا ہے کہ الہام کی خواہش نہیں کرنی چاہئے۔ ۳ مگر مقاصد کے بلند ہونے اور کسی بات کی طمع اور حرص میں بڑا فرق ہے۔ حرص کا مفہوم یہ ہے کہ انسان جو چیز اچھی دیکھے اس کے متعلق خواہش کرے کہ مل جائے۔ لیکن مقصد وہ ہوتا ہے جو پہلے مقرر کر لیا جاتا ہے اور پھر اس کے حصول کی کوشش کی جاتی ہے۔ گویا حریص تو سوالی بنتا ہے لیکن مقصد کے حصول کے لئے کوشش کرنے والا علو ہمت والا بنتا ہے۔ اسی طرح الہام کی خواہش کا حال ہے۔ الہام دعوت ہے جو خدا تعالیٰ اپنے کسی بندے کو دیتا ہے اب اگر کوئی کہے میں فلاں دوست سے اس لئے ملنے جاتا ہوں کہ اس کے ہاں مکلف دعوت کھاؤں تو یہ کیسی کمینہ بات ہو گی اور سب لوگ اُسے بڑا سمجھیں گے۔ لیکن اگر کوئی کہے میں فلاں دوست سے ملاقات کرنے کے لئے جاتا ہوں تو خواہ اُسے کتنی مکلف دعوت ملے اُسے کوئی بڑا نہ کے گا۔ اسی طرح الہام کی خواہش کا حال ہے۔ جب کوئی دعا کرے گا کہ خدا تعالی مجھے اعلیٰ مقام پر پہنچادے اور اپنا قرب عطا فرمائے تو اس مقام کے حاصل ہوتے ہی اُسے الہام کی دعوت حاصل ہو جائے گی۔ لیکن اگر کوئی یہ خواہش کرے کہ مجھے الہام ہو تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ اس