انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 248

9 منهاج الطالبين نہیں ہو سکتا۔ پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ میری قوت ارادی غالب نہ آئے۔ اسے اس قدر دہرائے کہ قوت ارادی نفس پر غالب آجائے۔ (۵) یہ آیت پڑھا کرے۔ اِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن الله یعنی خدا تعالی فرماتا ہے میرے بندوں پر شیطان کا قبضہ نہیں ہے۔ وہ سوچے میں خدا تعالی کا بندہ ہوں اور خدا کے بندوں پر شیطان کا تسلط نہیں ہو سکتا۔ پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ بدی مجھ پر غالب آجائے۔ (1) یہ آیت پڑھے لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ " اور یہ خیال کرے کہ میں خدا تعالی کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا۔ میں مؤمن ہوں اور مؤمن کو سوائے خدا کے کسی کا خوف نہیں ہو سکتا۔ (۷) اس آیت پر غور کرے نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ " جو مؤمن ہوتا ہے اس پر فرشتے نازل ہوتے اور کہتے ہیں ہم تمہارے مدد گار ہیں پھر تم کیوں گھبراتے ہو۔ (۸) آیت وَلَا تَا يَسُوا مِنْ زَوْجَ اللَّهِ إِنَّهُ لَا يَائِسُ مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَفِرُونَ " پڑھے اور سوچے۔ میں مشکلات سے مایوس نہیں ہو سکتا۔ مایوسی موت ہے جسے قبول کرنے کے لئے میں تیار نہیں ہوں۔ اگر ارادہ نہیں مانتا تو میں اسے سیدھا کر کے چھوڑوں گا۔ (۹) یہ آیت زیر غور رکھے بَايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عَبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي ١٥ میں مطمئن ہوں اور غیر محدود امیدیں میرے سامنے کھڑی ہیں۔ پھر مجھے کیا گھبراہٹ ہو سکتی ہے جبکہ خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے اور فرماتا ہے۔ جا اس جنت میں داخل ہو جا جو کبھی برباد نہیں ہو سکتی۔ (۱۰) حديث يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ الله زیر نظر رہنی چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ مؤمن کے متعلق تو اللہ تعالٰی وعدہ کرتا ہے کہ اس کی قبولیت دنیا میں پھیلائی جائے گی اور وہ ذلیل نہیں ہو گا۔ اس سے بھی قوت ارادی بڑھتی ہے۔ (1) وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ إِنَّ فِي ذَالِكَ لا يتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ علی کی آیت پر غور کرتا ہوا یہ خیال کرے کہ سب ناکامیاں لالچ اور حرص سے پیدا ہوتی ہیں۔ مگر مجھے کسی چیز کی حرص نہیں ہے۔ کیا پہلے ہی خدا تعالی نے میرے لئے ب کچھ نہیں بنا چھوڑا ؟