انوارالعلوم (جلد 9) — Page 241
انوار العلوم جلد اسم منهاج الطالبين ضروری ہے کہ وہ علمی طور پر معلوم کرے کہ اُسے کیا بیماری ہے۔ اس کے لئے وہ پہلے اپنے دل سے یہ سوال کرے کہ وہ کس بات کے لئے کوشش کر رہا ہے؟ اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ دل کی پاکیزگی کے لئے۔ اور دوسرا یہ ہے کہ اعمال کی اصلاح کے لئے۔ امر اول خدا تعالی کی محبت سے تعلق رکھتا ہے۔ اور دل کی کمزوری کے یہ معنے ہیں کہ صحیح محبت کا مادہ مفقود ہو گیا ہے۔ میں نے کئی کا دفعہ اپنی ایک رویا سنائی ہے کہ میں نے دیکھا حضرت مسیح ایک چبوترہ پر کھڑے بچہ کی شکل میں آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے کھڑے تھے۔ اوپر سے میں نے حضرت مریم کو اُترتے دیکھا۔ وہ کچھ اونچی چبوترہ پر کھڑی ہو گئیں۔ پھر وہاں سے ایک قدم نیچے اُتریں اور حضرت مسیح نے اوپر کی طرف قدم بڑھایا۔ حضرت مسیح ان کی طرف جھکے اور مریم اُن پر جھک گئیں۔ اس وقت میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے۔ Love Creats Love محبت محبت سے پیدا ہوتی ہے۔ پس محبت محبت سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ مگر محبت پیدا کرنے کے لئے بھی سامان ہوتے ہیں اور وہ یہ ہیں۔ (۱) حسن (۲) احسان اب ہم دیکھتے ہیں ایک شخص نے خدا تعالیٰ کا حسن بھی دیکھا یعنی اس کی صفات پر غور کیا۔ اور احسان بھی دیکھے۔ اپنے ساتھ خدا تعالیٰ کے تعلقات پر نظر کی۔ مگر باوجود اس کے اُس کے دل میں محبت نہ پیدا ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کی حالت اس بچہ کی سی ہے جو اپنی ماں سے محبت نہیں کرتا اور محبت کا مادہ اُس میں سے مارا گیا ہے۔ جیسے اگر کسی انسان کے پیٹ میں نہ غذا جاتی ہے اور نہ دوا۔ تو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کا معدہ خراب ہو گیا ہے۔ اس کے لئے پہلا کام یہ ہونا چاہئے کہ اس کے معدہ کو قوت دیں اور روحانیت میں یہ علاج ہے کہ اس کے احساسات اُبھاریں۔ سو ایسے انسان کے لئے پہلا علاج یہ ہے کہ چونکہ ظاہر ہر کا کا اثر اثر باطن باطن پر پر ہوتا ہے وہ ظاہری طور پر خشوع و خضوع اختیار کرے۔ نماز پڑھے تو رونے کی صورت بنائے خواہ تصنع سے ہی بنانی پڑے۔ بعض کام اگر تصنع اور بناوٹ سے بھی کئے جائیں تو اُن کا اثر باطن پر پڑتا ہے۔ میں نے امریکہ کی ایک کتاب میں پڑھا تھا۔ ایک پروفیسر طالب علمی کی حالت میں بہت قابل تھا آخر اُسے ایک کالج کا پرنسپل بنا دیا گیا۔ مگر اس وقت وہ سخت نا قابل ثابت ہوا۔ اس نے اس کی وجہ ایک علم النفس کے ماہر سے پوچھی تو اس نے بتایا کہ تمہارے دل میں اتنی زیادہ نرمی ہے کہ اس کی وجہ سے تم انتظام قائم نہیں رکھ سکتے۔ اس کا اس نے علاج پوچھا تو اس نے بتایا کہ تم اپنے دانت اور جبڑے جوڑ کر رکھا کرو۔ یعنی منہ کو سختی سے بند کیا کرو جس سے غصہ کی حالت نظر سے اُس نے ایسا ہی کیا اور کچھ عرصہ کے بعد اُس میں ایسا تغیر پیدا ہو گیا کہ ملک میں مشہور ہو گیا کہ سب سے زیادہ سخت 7