انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 242

انوار العلوم جلد 8 ۲۴۲ منهاج الطالبين پر نسپل وہی ہے اور اس نے خوب انتظام کر لیا۔ تو ظاہر کا اثر باطن پر ہوتا ہے۔ وہ شخص جو بزدل ہو وہ اگر اکڑ کر چلے تو اس میں جرات اور دلیری پیدا ہو جائے گی۔ فوج کے سپاہیوں سے ایسا ہی کرایا جاتا ہے۔ ان کو مشق کرائی جاتی ہے کہ اونچی گردن رکھ کر اور چھاتی تان کر چلیں۔ اس سے ان میں بہادری پیدا ہو جاتی ہے۔ پس پہلا علاج یہ ہے کہ کسی شخص میں جو عیب ہو اس کے مقابل کی صفت تصنع سے اختیار کرے اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اس میں فی الحقیقت وہ صفت پیدا ہو جائے گی۔ محبت کا مادہ پیدا کرنے کے لئے انسان ظاہری محبت کے آثار ظاہر کرے۔ مثلاً کسی سے مصافحہ کرے تو خوب پھینچ کر اور تپاک سے کرے۔ ایک شخص اس کے پاس آکر بیٹھے۔ جب وہ اٹھنے لگے تو خواہ دل میں یہی چاہتا ہو کہ چلا جائے مگر اصرار کرے کہ اور بیٹھو۔ اس طرح جب وہ ظاہر میں محبت کے آثار ظاہر کرے گا تو آہستہ آہستہ اس میں حقیقی محبت کا جذبہ پیدا ہو جائے پیدا ہو جائے گا اور پھر وہ خدا تعالی سے بھی محبت کرنے لگ جائے گا کیونکہ پہلے اس کے محبت نہ کرنے کی یہی وجہ تھی کہ اس میں محبت کا جذبہ ہی نہ تھا۔ (۲) اس کے علاوہ دوسرا علاج یہ ہے کہ ماں باپ، بیوی بچوں سے پیار میں زیادتی کرے ہیں وہ نکتہ ہے جسے عشق مجازی کہا جاتا ہے۔ صوفیاء نے اسی کو عشق مجازی قرار دیا تھا کہ جن سے محبت کرنا جائز ہے اُن سے محبت میں زیادتی کی جائے مگر بعد میں اس کو بگاڑ کر کچھ کا کچھ بنا لیا گیا۔ عشق مجازی کے یہی معنی نہیں ہیں کہ ایک شخص کوئی خوبصورت لڑکا تلاش کرے۔ اس سے محبت کرنے لگ جائے یا اور اسی قسم کی ناجائز محبت میں گرفتار ہو جائے بلکہ یہ ہے کہ جن رشتہ داروں سے محبت کرنا جائز ہے اُن سے زیادہ محبت کرے۔ اس طرح اس میں محبت کا جذبہ زیادہ پیدا ہو گا اور پھر خدا تعالی سے محبت کرنے کا جذبہ بڑھے گا۔ دوسری چیز جس کے لئے اپنی روحانیت کی اصلاح کی غرض سے انسان کوشش کرتا ہے وہ اعمال کی اصلاح ہے۔ اس کے لئے یاد رکھنا چاہئے کہ ہر ایک عمل قوت ارادی سے ہوتا ہے۔ انسان ارادہ کرتا ہے کہ یوں کرنا ہے اور پھر کر لیتا ہے۔ لیکن جو شخص کہتا تو رہتا ہے کہ میں نے فلاں کام کرنا ہے مگر کر نہیں سکتا تو اُس کی اس بے بسی سے ثابت ہوتا ہے کہ اس میں یا تو (1) اس کا قبضہ ارادہ پر نہیں رہا۔ انسان میں جو "میں" ہے وہ کمزور ہو گئی ہے اس وجہ سے وہ ارادہ پر حکومت نہیں کر سکتا میں بطور مالک کے ہوتی ہے اور ارادہ بطور داروغہ کے۔ مالک کمزور ہو گیا ہے اور وہ داروغہ سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ کام کر آؤ بلکہ اس سے ڈرتا ہے۔ اس وجہ سے داروغہ