انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 240

انوار العلوم جلد و منهاج المطالبين کے پاس جاتا ہے، وہ بہت کمزور ہوتا ہے، کوئی کام نہیں کر سکتا۔ اُسے کہا جاتا ہے۔ ورزش کیا کرو۔ اب کیا وہ یہ کہتا ہے کہ میں تو پہلے ہی کام نہیں کر سکتا اور آپ کہتے ہیں ورزش کیا کرو۔ وہ یہ نہیں کہتا کیونکہ اور کام میں اور ڈاکٹر کے بتائے ہوئے کام میں فرق ہے اور وہ یہ کہ جو کچھ ڈاکٹر بتاتا ہے گو وہ بھی کام ہے مگر ہے اختیار میں اور دوسرا اس کی طاقت سے بڑھ کر ہے۔ تو طاقت پیدا کرنے کے لئے بھی ایک عمل ہی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک ایسا کمزور جو اُٹھ کر کھڑا بھی نہیں ہو سکتا۔ چار پائی پر لیٹا رہتا ہے۔ اس کے متعلق ڈاکٹریسی کہے گا کہ اسے مالش کیا کرو۔ جب اسے کچھ طاقت آئے گی تو بیٹھ سکے گا پھر اور طاقت آئے گی تو کھڑا ہو سکے گا۔ یہی بات روحانی اعمال میں ہے کہ چھوٹے اعمال پر لگا کر اوپر اٹھایا جاتا ہے۔ ایک لڑکا جو کہتا ہو کہ مجھ سے دسویں جماعت کی ریڈر نہیں پڑھی جاتی۔ اُسے کہا جائے گا۔ اچھا نویں جماعت کی پڑھا کرو۔ اس کے متعلق وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب مجھ سے دسویں جماعت کی ریڈر نہیں پڑھی جاسکتی تو نویں کی کسی طرح پڑھوں گا۔ اسی طرح روحانیت میں چھوٹے اعمال سے ترقی کر کے بڑے اعمال تک لے جایا جاتا ہے۔ پہلے بیان شدہ علاجوں کے علاوہ ایسے شخص کے لئے بعض اور امور کی بھی ضرورت ہوتی ہے جنہیں میں آگے چل کر بیان کروں گا۔ پہلے علاج یہ ہیں:۔ (1) یہ کہ ایسا انسان نیکیوں اور بدیوں کا علم حاصل کرے۔ (۲) ان کے بر محل استعمال کا علم حاصل کرے۔ (۳) محاسبہ نفس کرے۔ (۴) استغفار کثرت سے کرے۔ (۵) خدا تعالی کی معرفت پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ پہلے میں نے کہا تھا خدا کی معرفت پیدا کرے۔ مگر یہاں یہ کہتا ہوں کہ معرفت پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ کیونکہ اس کی نسبت یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ یہ عمل پر پوری طاقت نہیں رکھتا۔ (1) نیکی اور بدی کا انجام ہوچے۔ (4) تَخَلَّقُوا بِأَخْلاقِ اللہ کی کوشش کرے۔ اس سے آگے میں جو علاج بتاؤنگا وہ اصولی ہیں۔ ایسے انسان کے متعلق اس بات میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ اس کے اندر بیماری ہے اور بیماری کا علاج بغیر تشخیص کے نہیں ہو سکتا اس لئے