انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxii of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page xxii

۱۴ نیکیوں کی تفصیلی لسٹ بیان فرمادی تاکہ ان پر عمل کیا جا سکے۔ آخر میں حضور نے فرمایا:۔ کوشش کے علاوہ ایک اور گر ہے اور وہ دعا کا گھر ہے۔ جب انسان سے اپنی کوششوں کے ذریعہ کچھ نہ بنے تو اسے بیرونی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلی چیز اپنی کوشش ہوتی ہے جو اندرونی امداد ہوتی ہے اور دوسری بیرونی امداد ہوتی ہے۔ انسان اپنی طرف سے کوشش کرے اور ساتھ ہی خدا تعالی سے دعا کرے کہ مجھ سے تو جو کچھ ہو سکتا ہے کر رہا ہوں۔ اب آپ ہی مدد دیں تو کامیاب ہو سکتا ہوں۔" (۱۲) مستورات سے خطاب فرموده ۲۸ دسمبر ۱۹۲۵ء بر موقع جلسه سالانه ) اس تقریر میں حضور نے سورۃ الدھر کی ابتدائی آیات کی پر معارف تفسیر بیان فرمائی ہے۔ احمدی مستورات کو مخاطب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ان آیات میں اللہ تعالی نے انسان کی زندگی کے ابتدائی درمیانی اور آخری انجام بتائے ہیں۔ گویا اس کی کمزور ہستی کا مکمل نقشہ کھینچ کر رکھ دیا۔ انسان اگر اس پر غور کرے تو وہ تکبر کر ہی نہیں سکتا جس کی وجہ سے انسان دنیا میں گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ آخر میں حضور نے احمدی عورتوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :۔ جب تک تم احمدیت کی تعلیم کو پورا نہیں کرو گی احمدی کہلانے کی مستحق نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ تم پوری احمدی بنو تاکہ اگر ایسا وقت آئے جب ہمیں خدا کے دین کے لئے تم سے جدا ہونا پڑے تو تم ہمارے بچوں کی پوری پوری تربیت کر سکو ۔ دنیا اس وقت جہالتوں میں پڑی ہوئی ہے۔ تم قرآن کو سمجھو اور خدا کے حکموں پر چلو۔"