انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxiii of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page xxiii

۱۵ (۱۳) احمدی خواتین کی تعلیم و تربیت مئی ۱۹۲۶ء میں مبلغ امریکہ حضرت مولوی محمد الدین صاحب کی کامیاب مراجعت پر لجند اماء اللہ قادیان کی طرف سے ان کی خدمت میں ایڈریس پیش کیا گیا۔ اس موقع پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے یہ تقریر فرمائی۔ عورتوں کو مخاطب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ عورتوں کیلئے کوئی باہر کا کام کرنا یا ملازمت کرنا ناجائز ہے۔ مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ عورتوں کے کثیر حصہ کا کام گھر میں ہی۔ میں جہاں اتنی آزادی اور اتنی تعلیم ہے وہاں بھی نوے فی صدی عورتیں گھروں میں کام کرتی ہیں۔ پس جب یورپ کی عورتیں انتہائی تعلیم پاکر بھی زیادہ تر گھر کا ہی کام کرتی ہیں تو معلوم ہوا عورتوں کی تعلیم کا جزو اعظم تربیت اولاد اور گھر کا کام ہی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بچوں کے کپڑے سینا اور پہناناہی عورتوں کا کام ہے بلکہ بچوں کو تعلیم دینا بھی ان کا فرض ہے اور اس کے لئے ان کا خود تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔" وہ آئمہ اسلام (۱۴) حق الیقین جس میں بعض ایک شیعہ مرزا احمد سلطان صاحب نے ایک کتاب مسمی بہ ” ہفوات المؤمنین “ لکھی جو لکھنو سے شائع ہوئی۔ مصنف کا مقصد حق جوئی اور صداقت طلبی معلوم نہیں ہوتا بلکہ در پرده اسلام اور بزرگان دین کو بد نام کرنا چاہتے ہیں۔ کتاب کے مضمون سے جس : روایات کو بنیاد بنایا گیا ہے رسول کریم میں ہم آپ کی ازواج مطہرات اور صحابہ کرام کی ذات کی اشاعت سے سارے ملک میں اسلام کے خلاف خطرناک زہر ناپاک حملے ہوتے ہیں۔ اس کی پر پھیل رہا تھا۔ اس لئے اس کا تدارک ضروری تھا۔ اخبار ”اہلحدیث" نے اس کا جواب لکھنا شروع کیا لیکن جلد ہی خاموشی اختیار کر لی۔ ان حالات میں حضرت مصلح موعود نے مناسب سمجھا کہ حضور خود اس کا جواب لکھیں۔ چنانچہ ۱۹۲۶ء میں آپ نے اس کا جواب لکھا۔ آپ