انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxi of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page xxi

۱۳ تو آپ نے فرمایا کہ ان کی اس نام کی تو کوئی کتاب نہیں البتہ غنیۃ الطالبین نام کی کتاب ہے۔ پھر معلوم ہوا کہ اس نام کی کسی اور کی کتاب بھی نہیں ہے۔ پھر خیال آیا کہ ممکن ہے کہ کسی وقت مجھے ہی اس نام کی کتاب لکھنے کی توفیق ملے۔ اور عبد القادر سے یہ مراد ہو کہ اس میں جو کچھ لکھا جائے وہ میرے دماغ کا نتیجہ نہ ہو بلکہ خدا تعالیٰ کی سمجھائی ہوئی باتیں ہوں۔ اس وجہ سے میں نے اس مضمون کا نام منہاج الطالبین رکھا ہے۔" حضور انور نے گناہوں سے بچنے کیلئے بنیاد تزکیہ نفس اور تقوی کو قرار دیا ہے۔ پھر انسان کامل بننے کے لئے فرمایا کہ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ انسان کا تعلق مخلوق سے بھی درست ہو اور خدا سے بھی درست ہو۔ حضور نے یہ نکتہ بیان فرمایا کہ دین دو شقوں میں منقسم ہے۔ (۱) اخلاق (۲) روحانیت۔ انسان کے اعمال کا وہ حصہ جو بنی نوع انسان سے تعلق رکھتا ہے اخلاق کہلاتا ہے اور وہی معاملہ جب خدا تعالیٰ سے کیا جائے تو اسے روحانیت کہتے ہیں۔ اس حوالے سے اخلاق پر بحث کرتے ہوئے آپ نے اخلاق کی تعریف اعلیٰ اخلاق کا خیال کیوں رکھا جائے با اخلاق کسے کہتے ہیں؟ اور کیا اخلاق کی اصلاح ممکن ہے؟ جیسے موضوعات پر نہایت تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ پھر گناہ کیا ہے؟ گناہ کے اقسام گناہ کہاں سے آتا ہے گناہ آلود حالتیں اور اسلام نے گناہ کا کیا علاج بیان فرمایا جیسے مضامین مدلل بیان فرمائے۔ اس ضمن میں حضور انور نے فرمایا کہ اگر آپ لوگ گناہ کا سلسلہ روکنا چاہتے ہیں تو جس طرح سیگریگیشن کیمپ Segregation Camp) ہوتا ہے اس طرح بناؤ اور آئندہ اولاد سے گناہ کی بیماری دور کر دو تا کہ آئندہ نسلیں محفوظ رہیں۔ اولاد سے گناہ کی بیماری کو دور کرنے کے لئے حضور نے تربیت کے ۲۷ عظیم الشان طریق بیان فرمائے ۔ نیز فرمایا کہ اصل نیکی دل کی پاکیزگی ہے اور جس فطرت پر زنگ نہ ہو اس کے لئے گناہوں سے بچنے کے تین علاج ہیں۔ (۱) یہ کہ اسے بدیوں کا علم اور نیکیوں کی خبر ہو۔ (۲) اسے معلوم ہو کہ بدیوں سے اجتناب اور نیکیوں پر عمل کرنے کے مواقع کیا کیا ہیں۔ (۳) اسے معلوم ہو کہ کونسی بدیاں میرے اندر ہیں جنہیں میں نے دور کرنا ہے۔ اس کے بعد حضور نے بڑی بڑی بدیوں کی ایک لسٹ بیان فرمائی جس میں ان بدیوں کی جو انسانوں سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کی جو انسانوں کے سوا دوسری مخلوق سے تعلق رکھتی ہیں کی تفصیلات ہیں تا کہ ان کے ذہن میں آنے سے ان سے بچنے کی طاقت پیدا ہو۔ اس کے ساتھ ہی حضور نے 1