انوارالعلوم (جلد 9) — Page xx
۱۲ (11) منهاج الطالبين یہ کتاب حضرت مصلح موعود کی دو تقاریر پر مشتمل ہے جو آپ نے جلسہ سالانہ کے موقع پر ستائیس اور اٹھائیس دسمبر ۱۹۲۵ء کو قادیان میں فرمائیں۔ ابتداء حضور نے احباب جماعت کو چند متفرق امور کی طرف توجہ دلائی جو جماعت کی اصلاح اور ترقی کے لئے ضروری ہیں۔ اس کے بعد آپ نے ایک نہایت ہی اہم مسئلہ پر شرح وبسط سے روح روشنی ڈالی ہے جو ہمیشہ انسان کی توجہ اپنی طرف کھینچتا رہا ہے۔ یعنی وہ کونسے ذرائع ہیں جن پر عمل کر کے انسان گناہوں سے پاک ہو جائے اور نفس میں نیکیاں پیدا ہو جائیں۔ تزکیہ نفس ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں لوگوں نے بڑی ٹھوکریں کھائی ہیں۔ ہندو جوگی جنگلوں میں مارے مارے پھرے اور شدید ریاضتیں کر کے اپنے اعضاء بے کار کر بیٹھے لیکن حاصل کچھ نہ ہوا۔ مسلمانوں میں سے بھی بعض صوفی کہلانے والے افراد نے لمبے لمبے اذکار اور وظیفے ایجاد کئے لیکن منزل سے دور ہی رہے۔ حضرت مصلح موعود نے اسلامی تعلیمی کی روشنی میں اس مضمون کی سادہ اور عام فہم طریق پر ایسی وضاحت فرمائی ہے کہ عام انسان بھی اس کو سمجھ سکتا ہے اور ان ذرائع پر آسانی سے عمل کر سکتا ہے۔ یہ کتاب انسان کے اپنے نفس کی اور آئندہ نسلوں کی اخلاقی اور روحانی تربیت کیلئے اہم اور مفید ترین معلومات پر مشتمل ہے۔ شروع میں حضور نے اس مضمون کی اہمیت واضح کرتے ہوئے اپنی ایک رؤیاء کا ذکر کیا ہے۔ فرماتے ہیں۔ " رویا یہ تھی کہ ایک مصلی ہے جس پر میں نماز پڑھ کر بیٹھا ہوں میرے ہاتھ میں ایک کتاب ہے جس کے متعلق مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ ہے کہ وہ شیخ عبد القادر صاحب جیلانی کی ہے اس کا نام منهاج الطالبین ہے یعنی خدا تعالیٰ تک پہنچنے والوں کا راستہ ۔ میں نے اس کتاب کو پڑھ کر رکھ دیا کہ پھر یکدم خیال آیا کہ یہ کتاب حضرت خلیفہ اول کو دینی ہے۔ اس لئے میں اسے ڈھونڈ نے لگا ہوں مگر وہ ملتی نہیں۔ ہاں اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک اور کتاب مل گئی۔ اس وقت میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے ۔ وَ مَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ اور تیرے رب کے لشکروں کو سوائے اس کے اور کوئی نہیں جانتا۔ اس کے بعد میں نے اس خیال سے کہ اگر شیخ عبد القادر صاحب جیلانی کی کوئی کتاب اس نام کی ہونا ہو تو اسے تلاش کروں حضرت خلیفۃ المسیح اول سے پوچھا !