انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 174

انوار العلوم جلد 9 ۱۷۴ منهاج الطالبين تعالی کی مقدس مجلس میں بیٹھنے کے قابل بنا دے۔ ہماری جماعت کے لئے یہ سوال کوئی معمولی سوال نہیں بلکہ ان کی زندگی اور موت کا سوال ہے کیونکہ اس وقت خدا کا ایک نبی آیا ہے جسے ہم نے قبول کیا ہے اور جس نے خدا کی آیات پڑھ کر ہمیں سنائی ہیں۔ اگر اس کو مان کر بھی ہم گندے رہے تو اس کو ماننے کا کیا فائدہ ہوا۔ مولوی برہان الدین صاحب جہلمی بہت مخلص احمدی تھے۔ حضرت مسیح موعود ایک دفعہ بیان فرمارہے تھے کہ مؤمن کے یہ یہ درجات ہونے چاہئیں۔ تقریر ختم ہونے کے بعد مولوی صاحب چیخیں مار کر رو پڑے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہنے لگے پہلے ہم وہابی ہوئے اور ہم نے رسول کریم کی باتوں کی اشاعت کرنے کی وجہ سے ماریں کھائیں پھر آپ آئے اور ہم نے آپ کو مانا اس وجہ سے مخالفین سے ماریں کھائیں پتھر کھائے نقصان اٹھائے (مولوی صاحب موصوف یہ باتیں پنجابی میں کہہ رہے تھے جو میں نے اُردو میں بیان کی ہیں۔ لیکن اگلا فقرہ میں اُردو میں بیان نہیں کر سکتا اس لئے پنجابی میں ہی دہراتا ہوں۔ کہنے لگے۔ مگر باوجود اس قدر تکالیف اُٹھانے کے میں دیکھتا ہوں کہ میں فیروی چوو دا چھڈو ہی رہیا۔ یعنی کسی کام کا نہ بنا۔ پس اگر ایک نبی کو مان کر بھی وہی بات ہو کہ ہم نکتے کے لکھتے ہی رہیں تو ہمیں کیا فائدہ ہوا۔ ہمارے اندر تو ایسی تبدیلی اور ایسا تغیر ہونا چاہئے کہ ہمیں محسوس ہو کہ ہم نے زندہ انسان کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا ہے بلکہ یہ محسوس ہو کہ ہم نے خدا تعالی کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا ہے ورنہ اگر ہم اس میں کامیاب نہ ہوئے تو گویا ہم نے کچھ نہ کیا۔ دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے کیا خواہش رکھتے اور ہمیں کتنا خطرناک ڈراتے ہیں۔ آپ تزکیہ نفس کی نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں تزکیۂ نفس اسے کہتے ہیں کہ خالق و مخلوق دونوں طرف کے حقوق کی رعایت کرنے والا ہو۔ خدا تعالیٰ کا حق یہ ہے کہ جیسا زبان سے وحدہ لا شریک اسے مانا جائے ایسا ہی عملی طور سے اسے مانیں اور مخلوق کے ساتھ برابر نہ کیا جاوے۔ اور مخلوق کا حق یہ ہے کہ کسی سے ذاتی طور پر بغض نہ ہو ، تعصب نہ ہو، شرارت انگیزی نہ ہو، ریشہ دوانی نہ ہو۔ مگر یہ مرحلہ دور ہے ابھی تمہارے معاملات آپس میں بھی صاف نہیں۔ گلہ بھی ہوتا ہے، غیبتیں بھی ہوتی ہیں، ایک دوسرے کے حقوق بھی دباتے ہیں۔ پس خدا چاہتا ہے کہ جب تک تم ایک وجود کی طرح بھائی بھائی نہ بن جاؤ گے اور آپس میں بمنزلہ اعضاء نہ ہو جاؤ گے تو فلاح نہ پاؤ گے۔ انسان کا جب بھائیوں سے معاملہ صاف