انوارالعلوم (جلد 9) — Page 175
انوار العلوم جلد 3 ۱۷۵ منهاج الطالبين نہیں تو خدا سے بھی نہیں۔ بیشک خدا کا حق بڑا ہے مگر اس بات کو پہچاننے کا آئینہ کہ خدا کا حق ادا کیا جا رہا ہے یہ ہے کہ مخلوق کا حق بھی ادا کر رہا ہے یا نہیں۔ جو شخص اپنے بھائیوں سے معاملہ صاف نہیں رکھ سکتا وہ خدا سے بھی صاف نہیں رکھتا۔ یہ بات سہل نہیں یہ مشکل بات ہے۔ سچی محبت اور چیز ہے اور منافقانہ اور۔ دیکھو مؤمن کے مؤمن پر بڑے حقوق ہیں۔ جب وہ بیمار پڑے تو عیادت کو جائے اور جب مرے تو اس کے جنازہ پر جائے۔ ادنی ادنی باتوں پر جھگڑا نہ کرے بلکہ درگزر سے کام لے۔ خدا کا یہ منشاء نہیں کہ تم ایسے رہو۔ اگر بچی اخوت نہیں تو جماعت تباہ ہو جائے گی ۔ الى اسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِّي مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نصائح ہیں تقویٰ کے متعلق۔ پس اپنی زندگی کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے رسول کریم ﷺ کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے ہمارا فرض ہے کہ اپنے اندر تقوی پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ اب میں یہ تعریف بیان کرتا ہوں کہ انسان کامل کون ہوتا ہے۔ جیسے طب کے لحاظ سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ تندرست آدمی کون ہے۔ اسی طرح روحانیت کے لحاظ سے ہم معلوم کرتے ہیں کہ انسان کامل کون ہوتا ہے۔ انسان کامل بننے کے لئے سب سے ضروری بات یہ ہے کہ انسان کا تعلق مخلوق سے بھی درست ہو اور خدا تعالیٰ سے بھی درست ہو یہ دونوں باتیں ضروری ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے انسان کامل کے لئے قرار دی ہیں۔ انسانوں سے تعلق کا درست رکھنا بھی دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ (۱) یہ کہ انسان کا اپنے نفس سے تعلق درست ہو۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں۔ وَ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ ۔ یہ تیرے نفس کا تجھ پر حق ہے۔ (۲) یہ کہ دوسری مخلوق سے اس کا تعلق ہو۔ اپنے نفس کے نفس کے متعلق جو تعلیم ہے وہ پھر دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ (1) انسان ان امور سے مجتنب رہے کہ جو اس کے دل کو خراب کرنے والے ہیں۔ (۲) ان امور پر عمل کرے جن سے دل پاک ہوتا ہے۔ دوسرے حصہ کی بھی تین شاخیں ہیں۔ یعنی (1) بنی نوع انسان سے بحیثیت افراد انسان کا تعلق درست ہو۔ (1) اس کے تعلقات بنی نوع انسان سے بحیثیت جماعت درست ہوں۔ یعنی قانون ملکی کے لحاظ سے دوسروں درست ہو۔