انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 166

انوار العلوم جلد 9 144 منهاج الطالبين کے کپڑے پھاڑ ڈالوں۔ بے شک ہماری جماعت پر بہت بوجھ ہے اور وہ بہت کچھ خدا کی راہ میں خرچ کرتی ہے۔ مگر جماعت نے ہی سارا بوجھ اُٹھانا ہے غیروں سے تو ہم نے کچھ لینا نہیں۔ میں نے ابھی کہا ہے کہ ہماری جماعت نے بہت بوجھ اٹھایا ہوا ہے لیکن جماعت کی مجموعی حالت کو دیکھ کر میں کہہ سکتا ہوں کہ ہماری جماعت نے ابھی اتنی مالی قربانی نہیں کی جتنی پہلی جماعتیں قربانی کرتی رہی ہیں۔ میں نے روم میں وہ مقام دیکھا ہے جہاں حضرت مسیح علیہ السلام کے ماننے والے اپنے دشمنوں کی سختیوں اور ظلموں سے بچنے کے لئے رہے۔ میں میل کے قریب وہ مقام لمبا ہے۔ وہاں عیسائی اپنے گھر بار مال و اموال چھوڑ کر چلے گئے تھے اور وہ فاقے پر فاقے اُٹھاتے تھے۔ سورہ کہف میں ان کا نام اصحاب کھف والرقیم رکھا گیا ہے۔ ہم چند گھنٹے کے لئے وہاں گئے۔ مگر کئی دوست وہاں ٹھہرنا برداشت نہ کر سکے حالانکہ وہ لوگ وہاں کئی سال تک دقیانوس کے وقت رہے۔ وہ نهایت تنگ و تاریک گیلی مٹی کے غار میں سرکاری فوجوں نے ان میں سے جن کو وہاں مارا ان کی قبریں بھی وہیں بنی ہوئی ہیں اور اُن پر کتبے لگے ہیں کہ یہ فلاں وقت مارا گیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے خدا کے لئے سب کچھ چھوڑ دیا تھا اور ایسی ایسی تکلیفیں برداشت کی تھیں جن کا خیال کر کے الصلوة اب بھی رونگٹے کھڑے ے ہو جاتے ہیں۔ آپ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ والسلام حضرت مسیح ناصری علیہ الصلوة والسلام سے بڑے تھے۔ پھر آپ لوگوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہماری قربانیاں بھی حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والوں سے بڑی ہوں۔ مگر کیا اس وقت تک کی ہماری قربانیاں ایسی ہیں ؟ دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ نے فرمایا ہے۔ جو وصیت نہیں کرتا وہ کرتا وہ منافق ہے اور وصیت کا کم از کم چندہ 1/10 حصہ مال کا رکھا ہے اللہ جس میں عام چندہ جو وقتاً فوقتاً کرنا پڑے شامل نہیں۔ مگر ہماری جماعت اس وقت اپنی آمد کا 1/16 حصہ چندہ میں دیتی ہے اور بعض یہ بھی نہیں دیتے بلکہ اس سے کم شرح سے دیتے ہیں اور بعض بالکل ہی نہیں دیتے مگر باوجود اس کے کہا جاتا ہے ہم پر بڑا بوجھ پڑا ہوا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جو کام کرنے کا ہم نے تہیہ کیا ہے وہ کتنا بڑا ہے۔ اب جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم پر بڑا بوجھ پڑ گیا اُن کی حالت اُس شخص کی سی ہے جو ہا تھی اُٹھانے کے لئے جائے اور جب اُٹھانے لگے تو کہے یہ تو بڑا بوجھ ہے یا اُس شخص کی سی ہے جو اپنے ہاتھ میں آگ کا انگارا پکڑنا چاہے اور پھر کے اس سے تو ہاتھ جلتا ہے۔ پس جو قوم یہ کہتی ہے کہ وہ دنیا کو اس طرح اُڑا دینے کی کوشش کر رہی ہے جس طرح ڈائنامیٹ پہاڑ کو اُڑا دیتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ڈائنامیٹ کی طرح پھٹ کر اپنے آپ کو تباہ کر