انوارالعلوم (جلد 9) — Page 165
انوار العلوم جلد 9 ۱۶۵ منهاج الطالبين کے ایماء سے وہ بات سوال کرنے والے نے اٹھائی ہے۔ اس کے متعلق میں نے اگر کی شرط لگا کر کہا تھا کہ اگر انہوں نے ایسا کیا ہے تو غلطی کی ہے۔ مگر بعد میں معلوم ہوا کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا اس لئے جب رپورٹ شائع ہوئی تو اس میں سے وہ حصہ کاٹ دیا گیا تھا مگر افسوس ہے کہ ایڈیٹر صاحب فاروق نے اس ذکر کو شائع کر دیا۔ مجھے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ فاروق کے متعلق وہ باتیں کہی تھیں۔ گویا فاروق کی طرف سے میں نے بدلہ لے لیا تھا۔ مگر "فاروق" نے اسے کافی نہ سمجھا۔ میں نے اس وقت فاروق کی ممکن سے ممکن حمایت کی تھی مگر ایڈیٹر صاحب فاروق نے اس پر صبر نہ کیا اور ایک بھائی کے خلاف خود قلم چلایا۔ چونکہ اس امر کو اخبار میں شائع کیا گیا ہے اس لئے اس کا ذت بھی مجلس میں ہی کرتا ہوں۔ یہ اگر کسی کو بڑا لگے تو وہ اپنے نفس پر افسوس کرے جس نے اس سے ایسا فعل کرایا ہے۔ اب میں جماعت کی مالی حالت کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ ہمارے سلسلہ کی مالی حالت ان دنوں نہایت کمزور ہے۔ ہمارے دوستوں سے جس قدر ممکن ہو سکتا ہے مدد کرتے ہیں مگر باوجود اس کے ہماری ضروریات پوری نہیں ہوتیں۔ ہماری ضروریات سے مراد میری ذاتی ضروریات نہیں۔ ان ہماری ضروریات میں میں بھی اتنا شریک ہوں جتنے آپ لوگ شریک ہیں کیونکہ ان سے مراد سلسلہ کی ضروریات ہیں۔ اب مشکلات کی جو حالت ہے ان کو زیادہ لمبا نہیں جانے دیا جا سکتا کیونکہ اس سے فتنہ پیدا ہوتا ہے۔ اب بھی یہ حالت ہے کہ کارکنوں کو تین تین ماہ کی تنخواہیں نہیں ملیں اور ان میں سے پچتیں تھیں آدمی مجھے ایسے معلوم ہیں جنہیں کئی کئی وقتوں کا فاقہ گذر چکا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک پرانے صحابی ایک دن میرے پاس آئے اور آکر رو پڑے کہ اتنے دنوں کا فاقہ ہے۔ اور کام کرتے ہوئے غشی کے قریب حالت پہنچ جاتی ہے۔ اس حالت میں میں نے ارادہ کیا کہ گھر بار چھوڑ کر کہیں جنگل میں جا بیٹھوں مگر اس خیال سے باز رہا کہ خود کشی نہ ہو۔ آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ ایسی حالت میں اس بات کو دیر تک التواء میں نہیں رکھا جا سکتا۔ بے شک باہر کی جماعتوں کے افراد کو تکالیف کا سامنا ہے کیونکہ وہ کوئی امیر کبیر نہیں ہیں۔ مگر میں کہتا ہوں کہ کیا انکو بھی ایسی ہی تنگی در پیش ہے جیسی یہاں ہم کو ہے؟ ایک دن تو ان تکالیف کی وجہ سے مجھے ایسا معلوم ہوا کہ میری قوت ارادی بالکل جانے لگی ہے اور قریب تھا کہ میں اپنے تن ایڈیٹر صاحب فاروق نے بھی مومنانہ طور پر اسی وقت اس غلطی پر پر ندامت کا اظہار کا اظہار کر دیا تھا اس لئے ان پر بھی کوئی الزام نہیں۔