انوارالعلوم (جلد 9) — Page 167
انوار العلوم جلد 9 142 منهاج الطالبين لے۔ کیا کبھی بازود خود قائم رہ کر کسی چیز کو اُڑا سکتا ہے ؟ یا ڈائنامیٹ اپنے آپ کو تباہ کئے بغیر کوئی تغیر پیدا کر سکتا ہے؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو تمہیں اسی طرح کرنا پڑیگا۔ اگر تم تھوڑے سے ہو کر دنیا کو فتح کرنا چاہتے ہو تو ڈائنامیٹ بن کر ہی فتح کر سکتے ہو کیونکہ تھوڑا ساڈائنامیٹ ہی ہوتا ہے جو ایک بڑے خطہ کو تہہ و بالا کر دیتا ہے اور اس کے یہ معنے ہیں کہ ہم دنیا کو اُڑانے سے پہلے آپ اُڑ جائیں گے۔ کیا یہ حالت تم میں پیدا ہو گئی ہے اور اس درجہ تک تم پہنچ گئے ہو ؟ اگر نہیں تو ساری دنیا کو فتح کرنے کا ارادہ رکھتے ہوئے کس طرح کہہ سکتے ہو کہ تم پر بہت بوجھ پڑ گیا تم میں سے ہر ایک کو اپنی حالت پر غور کرنا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ اس نے اس مدعا اور مقصد کے پورا کرنے میں کس قدر سعی اور کوشش کی ہے جو ہر ایک احمدی کا اولین فرض ہے اور جس کے لئے وہ پیدا ہوا ہے۔ اگر اس بات کو مد نظر رکھ کر تم اس بوجھ کو دیکھو گے جسے تم نے اس وقت تک اُٹھایا ہے تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تم میں سے سارے کے سارے ایسے ہیں جنہیں اس بات کا احساس نہیں کہ وہ کس مقصد اور مدعا کو لیکر کھڑے ہوئے ہیں اور اس کے لئے کس قدر سعی اور کوشش کی ضرورت ہے۔ بڑے بڑے مخلص بھی ہیں۔ ایک دوست جن کی تنخواہ ساٹھ روپے ماہوار ہے انہوں نے اپنی آمدنی کے ۳ / ا حصہ کی وصیت کی ہوئی ہے یعنی ہیں روپے ماہوار چندہ دیتے ہیں۔ جب چندہ خاص کی تحریک ہوئی تو اس میں انہوں نے تین ماہ کی تنخواہ دیدی اور اس طرح وہ مقروض ہو گئے۔ اس پر انہوں نے خط لکھا کہ کیا میں قرضہ ادا ہونے تک ۱۰ / احصہ آمد کا چندہ میں دے سکتا ہوں مگر اس سے ۶۰۵ دن بعد ان کا خط آگیا کہ مجھے پہلا خط لکھنے پر بہت افسوس ہوا۔ میں اپنی آمد کا ۳ / ا حصہ ہی چندہ میں دیا کروں گا۔ تو ایک حصہ جماعت کا ایسے مخلصین کا بھی ہے اور یہ بڑا حصہ ہے۔ مگر میں باقیوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ بھی ایسے ہی بنیں۔ اور ہماری تو یہ حالت ہونی چاہئے کہ ایک قطرہ بھی ہمارے اپنے لئے نہ ہو بلکہ ہمارے لئے وہی رہنا چاہئے جو ہمارا نہیں رہا۔ یعنی جان بچانے، ستر ڈھانکنے کے لئے جو خرچ ہو وہ کیا جائے باقی سب کچھ خدا کے لئے سمجھا جائے۔ دیکھیں آپ لوگ جماعت میں داخل ہو کر جو وعدہ کرتے ہیں وہ کتنا بڑا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہے ہے کہ ہماری جان ہمارا مال ہماری عزت ہماری آبرو، ہمارا ، آر آرام، ہماری آسائش آ- ، ہماری دولت، ہماری جائداد غرضیکہ ہمارا سب کچھ خدا کا ہو گیا۔ یہ بیعت کے معنے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ جو کچھ میرا ہے وہ میرا نہیں بلکہ خدا ہی کا ہے۔ مثلاً سو روپیہ تنخواہ ہے تو اس کی نہیں بلکہ خدا