انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xv of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page xv

८ کوئی چیز اسے روک نہیں سکتی۔ خواہ کیسے ہی مضبوط قلعے ہوں اور کیسی ہی سخت دیواریں کیوں نہ ہوں۔ حضور نے فرمایا کہ میں اپنے دوستوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائیں بنا کہ صداقت اور راستی کے بچے حامل بن سکیں۔ پس اگر آپ اپنے قلوب کی اصلاح کریں اپنے اندر جوش و اخلاص پیدا کریں تو یہ نا ممکن ہے کہ تمہارے کلام میں وہ طاقت اور وہ تأثیر خدا تعالیٰ پیدا نہ کرے جو دلوں کو مسخر کرنے والی ہوتی ہے۔ اس کے بعد حضور نے غیر احمدیوں کے ایک مولوی کے بیان کا ذکر کیا جس میں اس نے کہا تھا کہ عیسائیوں سے یہودیوں سے آریوں سے ، سکھوں سے ہماری صلح ہو سکتی ہے مگر احمدیوں کے ساتھ ہم کسی طرح صلح نہیں کر سکتے کیونکہ یہ کافر اور مرتد ہیں۔ آریہ سکھ یہودی اور عیسائی ان سے بدرجہا بہتر ہیں۔ اس پر حضور نے فرمایا کہ یہ بیان سن کر مجھے سخت حیرت ہوئی اور میرا دل اس بات کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں تھا کہ کوئی کس طرح ان لوگوں کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ جھوٹا تسلیم کرتے ہیں اور حضور کو بُرے الفاظ سے یاد کرتے ہیں ان کو اس جماعت سے کیسے بہتر قرار دے سکتا ہے جو رسول کریم میں اللہ کے دین کی کچی خادم ہو ، آپ کا کلمہ پڑھنے والی ہو۔ یہ صرف وہی شخص کر سکتا ہے جس کا دل بالکل سیاہ ہو چکا ہو جو سخت تار تاریکی اور ظلمت میں پڑ گیا ہو۔ 6 حضور نے فرمایا کہ اس کے مقابل ہماری یہ حالت ہے کہ گو عیسائیوں کی حکومت اور ان کے ملک میں ہمارے لئے بہت امن اور انصاف ہے اس کے بالمقابل افغان حکومت میں ہمارے ساتھ ظلم اور بے انصافی ہوتی ہے لیکن جب مذہب کا سوال آئے گا تو میں امیر امان اللہ کو کروڑوں درجے کنگ جارج سے بڑھ کر سمجھوں گا۔ کیونکہ امیر امان اللہ ہمارے اس رسول کی عزت کرتے ہیں جو ہمیں جان سے بھی زیادہ پیارے ہیں اور انہیں خدا کا سچا رسول مانتے ہیں جب کہ کنگ جارج رسول اللہ کی صداقت کے قائل نہیں۔ حضور نے فرمایا کہ میں مذھبا امیر امان اللہ کو کنگ جارج سے زیادہ معزز سمجھتا ہوں۔ اس کے بعد حضور نے غیر از جماعت احباب کے بعض اعتراضات کے نہایت مدلل جوابات دیئے۔ اور آخر پر دیو بندیوں۔ پر دیو بندیوں کے اس چیلنج کا ذکر کیا کہ جس میں انہوں نے دعوی کیا تھا کہ مرزا صاحب نے کوئی بھی نئے معارف قرآنیہ بیان نہیں کئے۔ حضرت مصلح موعود نے فرمایا کہ اگر دیوبندی اس دعوئی پر قائم رہیں اور اس کو سچائی کا معیار سمجھیں تو میں اس کا ذمہ لیتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود کی کتب سے ایسے قرآنی