انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xiv of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page xiv

។ التواء کرنا بہتر ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ حج بہر صورت اور ہر حالت میں فرض نہیں ہے بلکہ اس وقت اور اس پر فرض ہوتا ہے جب اور جس شخص میں بعض شرائط پائی جائیں اور انہی شرائط میں سے ایک امن کا وجود بھی ہے۔" ۱۹۲۵ء میں حجاز عرب کی حالت اور امیر ابن سعود اور شریف علی کی باہم چپقلش اور اس کی وجوہ بیان کرنے کے بعد حضور نے ترکی کے جنگ عظیم میں شامل ہونے کے اثرات اور مغربی اقوام کے رد عمل کو عام فہم انداز میں بیان کرتے ہوئے آخر میں شریف مکہ اور انگریزوں کے تعلقات پر سیر حاصل بحث فرمائی۔ خاندان ابن سعود کے تاریخی حالات اور اس ضمن میں مشهور عرب رہنما محمد بن عبد الوہاب کی اصلاحی تحریک کا ذکر کر کے فرمایا :۔ " مندرجہ بالا حالات سے۔ سے یہ امور بخوبی روشن : ہو جاتے ہیں کہ موجودہ جنگ حجاز کوئی نئی جنگ نہیں بلکہ یہ ایک ڈیڑھ سو سالہ پرانا قصہ ہے اور سنیوں وہابیوں کی جنگ ہے۔ پچھلے ڈیڑھ سو سال میں قریباً بغیر وقفے کے وہابیوں نے سب عرب پر قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے مگر سنیوں نے ان کا مقابلہ کیا ہے۔" آخر میں حضور نے دعا فرمائی کہ :۔ اللہ تعالی اس فتنہ و فساد میں سے ایسے خیر و خوبی کے پہلو پیدا کرے کہ اسلام کا بول بالا ہو اور حجاز مسیحی اثر سے بالکل پاک رہے اور دجال کا رُعب خانہ خدا میں رہنے والے لوگوں کے دلوں سے دور رہے۔" (۷) مخالفین احمدیت کے بارہ میں جماعت احمدیہ کو نصیحت یہ کتاب حضرت مصلح موعود کی ایک تقریر پر مشتمل ہے جو حضور نے مخالفین احمدیت کے بارہ میں جماعت احمدیہ کو نصیحت کرتے ہوئے اوائل جولائی ۱۹۲۵ء میں ارشاد فرمائی۔ حضور نے فرمایا کہ اگر ہم صداقت اور راستی کے بچے حامل بن جائیں ۔ ہماری اپنی اصلاح ہو، ہمارے قلب صاف ہو جائیں اور خدا تعالیٰ کی محبت اور مخلوق خدا کی ہمدردی ہمارے اندر جوش مارنے لگ جائے تو یقیناً کسی مخالف کی مخالفت ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔ صداقت اور راستی ایک ایسا حربہ ہے جو ہزاروں پردوں کو چیر کر سینوں کے اندر داخل ہو جاتی ہے۔ اور