انوارالعلوم (جلد 9) — Page xvi
= حقائق اور معارف پیش کروں جو ان مولوی صاحبان نے کبھی بیان نہیں کئے اور نہ حضرت مسیح موعود سے پہلے کسی نے لکھے ہیں۔ حضرت مصلح موعود نے مولویوں کو یہ بھی چیلنج دیا کہ میں جو مسیح موعود علیہ السلام کا خادم ہوں مجھ سے مقابلہ کر لیں اور قرآن کریم کے تین رکوع کسی جگہ سے قرعہ ڈال کر انتخاب کر لیں اور وہ تین دن تک اس ٹکڑے کی ایسی تفسیر لکھیں جس میں چند ایسے نکات ضرور ہوں جو پہلی کتب میں موجود نہ ہوں اور میں بھی اسی ٹکڑے کی اسی عرصہ میں تفسیر لکھوں گا اور میں حضرت مسیح موعود کی تعلیم کی روشنی میں اس کی تشریح بیان کروں گا اور کم سے کم چند ایسے معارف بیان کروں گا جو اس سے پہلے کسی مفسر یا مصنف نے نہ لکھے ہوں گے۔ پھر دنیا خود دیکھ لے گی حضرت مسیح موعود نے قرآن کریم کی کیا خدمت کی ہے۔ حضور نے فرمایا :۔ ان مولویوں کو میں اپنے مقابلہ پر بلاتا ہوں اگر وہ آئے تو دیکھیں گے کہ حضرت مرزا صاحب کے ایک ادنی غلام کے مقابلہ میں ان کا کیا حشر ہوتا ہے۔ ان کی قلمیں ٹوٹ جائیں گی ، ان کے دماغوں پر پردے پڑ جائیں گے۔ اور وہ کچھ نہیں لکھ سکیں گے اگر ان میں ہمت اور جرات ہے تو مقابلہ پر آئیں۔" (۸) آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے پروگرام پر ایک نظر یہ پمفلٹ حضور نے آل انڈیا مسلم پارٹیز کانفرنس کے اجلاس میں پیش کرنے کیلئے ۱۳ جولائی ۱۹۲۵ء کو تحریر فرمایا:۔ منتظمین کا نفرنس کی خواہش تھی کہ امام جماعت احمد یہ بنفس نفیس اس میں شریک ہو کر اپنے خیالات کا اظہار فرمادیں۔ حضرت مصلح موعود نے تحریر فرمایا کہ میں خود اس میں شمولیت سے معذور ہوں لیکن اپنے نمائندوں کے ذریعے اپنے خیالات تحریر ا پیش کر دیتا ہوں۔ اس پمفلٹ میں حضور نے سب سے پہلے اسلام کی مذہبی اور سیاسی تعریف بیان فرمائی اور فرمایا کہ اسلام کی ایک تو مذہبی تعریف ہے جس کا ہر شخص کو اختیار ہے کہ وہ جو چاہے اس کی تعریف کرے۔ دوسری اسلام کی سیاسی تعریف ہے۔ سیاسی طور پر کون لوگ مسلمان ہیں؟ اس کا جواب صرف ہندو، عیسائی اور سکھ ہی دے سکتے ہیں جن سے مسلمانوں کا سیاسی واسطہ پڑتا ہے۔