انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xiii of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page xiii

(۵) جماعت احمدیہ کے عقائد سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے عقائد جماعت احمدیہ کے بارہ میں ایک پُر معارف مضمون تحریر فرمایا جو الفضل ۱۴/۱۲ مئی ۱۹۳۵ء میں شائع ہوا۔ اس مضمون میں آپ نے احمدیت ، ہستی باری تعالی ملائکہ اللہ کلام الهی قرآن کریم رسول کریم میں اور انبیاء علیهم السلام وغیرہ کے بارہ میں اپنے عقائد بیان فرمائے۔ رؤیتِ الہی کے عنوان کے تحت آپ فرماتے ہیں۔ 6 ہمارا یہ یقین اور وثوق ہے کہ انسانی روح ترقی کرتے کرتے ایسے درجے کو حاصل کرلے گی جب کہ اس کی طاقتیں موجودہ طاقتوں کی نسبت اتنی زیادہ ہونگی کہ اسے ایک نیا وجود کہا جا سکتا ہے۔ اس وقت روح اس قابل ہو جائے گی کہ اللہ تعالی کے ایسے جلوے کو دیکھے اور ایسی رؤیت اس کو حاصل ہو کہ باوجود اس کے کہ وہ حقیقی رؤیت نہ ہو گی مگر پھر بھی اس دنیا کے مقابلہ میں رویت اور یہ دنیا اس کے مقابلہ میں حجاب کہلانے کی مستحق ہوگی۔" 1 (۶) حج بیت اللہ اور فتنہ حجاز ۱۹۲۵ء میں عرب کے حالات خانہ : جنگی کی وجہ وجہ سے خراب تھے۔ امیر ابن سعود حاکم نجد مکہ مکرمہ پر قابض تھے اور جدہ کی بندرگاہ جہاں حاجیوں کے جہاز آکر ٹھرتے تھے پر شریف علی کا قبضہ تھا۔ اور دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف بر سر پیکار تھے۔ ان مخدوش حالات کی وجہ سے ہندوستان میں علمائے اسلام کے سامنے اس سال حج بیت اللہ کے جواز یا عدم جواز کا سوال پیش تھا۔ اس پر جون ۱۹۲۵ء میں مسلمانوں کی راہنمائی کیلئے حضور نے یہ مضمون لکھا۔ آپ نے فرمایا :۔ میں اپنے تمام دوستوں کو شروع مضمون میں ہی بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس سال حج کرنا فتنہ کا موجب ہے اور شریعت کے حکم کے ماتحت اس حج کے ارادہ میں