انوارالعلوم (جلد 9) — Page 67
انوار العلوم جلد 9 ५८ حج بیت اللہ اور فتنہ حجاز سے اور بھی بھر گئے ۔ اور عربوں کو بھی انہوں نے برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ شام اور عراق میں سوائے معدودے چند لوگوں اور قبیلوں کے اکثر حصہ آبادی کھلے طور پر کچھ نہ کر سکی مگر یہ ضرور ہوا کہ ترکوں کی توجہ بٹ گئی اور مصر پر حملہ کا خیال ان کو چھوڑنا پڑا۔ کیونکہ اس صورت میں ان کا عقب غیر محفوظ ہو گیا۔ میرے نزدیک نز بغاوت بغاوت ہی ہے اور اس لحاظ اسے سے میں ترکوں سے پوری ہمدردی ہمد روی رکھتا ر ہوں۔ اور شریف مکہ کے اس فعل کو نہایت برا اور قبیح خیال کرتا ہوں۔ مگر میں ساتھ ہی یہ خیال کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے منشاء کے مطابق یہ فعل ہوا۔ کیونکہ اس طرح مقامات مقدسہ اتحادیوں کی دست برد سے محفوظ ہو گئے ۔ آخری دو سالوں میں اٹلی اس قدر تنگ آچکا تھا کہ جنگ کو جلد سے جلد ختم کرنا چاہتا تھا۔ اور کوئی تعجب نہیں کہ چونکہ اس کا افریقی علاقہ مسودا عرب کے ساحل کے مقابل پر ہے، وہ کچھ فوج جدہ میں اتار کر مقامات مقدسہ پر قبضہ کرنا چاہتا۔ اور اما اٹلی جس مقام تہذیب پر ہے اس کو سوچ کر جسم کے رونگٹے اس خیال سے کھڑے ے ہو جاتے ہیں۔ پس میں ہمیشہ یہ خیال کرتا ہوں کہ اس طرح عربوں کا اتحادیوں سے مل جانا مقامات مقدسہ کی حفاظت کا ایک ظاہری ذریعہ بن گیا اور خدا تعالیٰ کی تدابیر میں سے اسے ایک تدبیر سمجھنا چاہیے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے جبکہ میں ہندوستان کے لئے سوراج (حکومت خود اختیاری۔ مرتب) کا مطالبہ کرنے والے اور حکومت به رضائے باشندگان کا اصل پکار پکار کر سنانے والے مسلمان لیڈروں کو دیکھتا ہوں کہ وہ عربوں کی اس بغاوت کے خلاف جوش دکھاتے ہیں ۔ اگر ہندوستان کے باشندوں کا حق ہے کہ وہ اپنے ملک کی حکومت کا آپ فیصلہ کریں تو باشندگانِ عرب کا کیوں حق نہیں کہ وہ اپنے ملک کی حکومت اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کریں۔ ان کا عربوں کو گالیاں دینا ان کے دعوئی اور ان کے عمل میں ایسا تضاد پیدا کرتا ہے کہ ہر عقلمند اس کو دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے۔ غرض کہ جون ۱۹۱۶ء میں شریف نے ترکوں کے خلاف جنگ شروع کی۔ اور جنگ کے بعد شام کی حکومت امیر فیصل بن شریف حسن کو دے دی گئی۔ فلسطین اور عراق کے درمیان کا علاقہ عبد اللہ بن شریف حسن کو اور حجاز کی حکومت خود شریف کے ہاتھ میں آئی ۔ اس عرصہ میں فرانس نے شام کا مطالبہ کیا۔ اور انگریزوں نے وہ علاقہ اس کے سپرد کر دیا ۔ چونکہ فرانس نہیں چاہتا تھا کہ شام آزادی حاصل کرے اور امیر فیصل کے ارادے اس وقت بہت بلند تھے وہ ایک متحدہ عرب حکومت کے خواب دیکھ رہے تھے ۔ فرانس کے نمائندوں اور ان میں اختلاف ہوا۔ اور امیر فیصل