انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 68

انوار العلوم جلد 9 く حج بیت اللہ اور فتنہ حجاز کو شام چھوڑنا پڑا ۔ انگریزوں نے اس کو بدلہ میں ان کو عراق کا بادشاہ بنا دیا ۔ سیاسی طور پر عرب کی آئندہ امیدوں پر یہ ایک بہت بڑا حربہ تھا۔ کیونکہ شام کی آزادی کا سوال بالکل پیچھے جا پڑا ۔ اور شام کی شمولیت کے بغیر عرب کبھی متحد نہیں ہو سکتا تھا۔ کیونکہ شامی سب عرب میں سے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ اور ترقی کرنے کی استعداد رکھتے ہیں۔ اور پھر ان کا ملک نہایت سرسبز بھی ہے۔ عراق سرسبز ہے مگر عراق سے انگریزوں کے فوائد ایسے وابستہ ہیں کہ یہ امید نہیں کی جاسکتی تھی اور نہ کی جاتی ہے کہ عراق کسی قریب زمانہ میں ایسا آزاد ہو جائے کہ عرب کو متحد کرنے میں کامیاب ہو سکے ۔ دو سرے عراقی تعلیم میں بہت پیچھے ہیں اور ان میں عرب کو متحد کرنے کی روح بھی موجود نہیں۔ اس تبدیلی کا ایک اور بھی اثر پڑا۔ امیر فیصل نے دیکھ لیا کہ عرب کو متحد کرنے کے ان کے ارادے خواب و خیال بن گئے ۔ وہ انگریزوں کے ممنون احسان بھی ہو گئے کیونکہ جب وہ سب کچھ کھو چکے تھے ۔ انگریزوں نے ان کو حکومت دے دی نہ اور کچھ نہیں تو نام کا بادشاہ ان کو بنا دیا ۔ اس وجہ سے ان کی آزاد طبیعت واقعات کی غلام بن گئی۔ اور وہ ہمت و جوش جو انہوں نے پہلے چند سالوں میں دکھایا تھا اب ایک مایو سانہ تسلی سے بدل گیا۔ جہاں اس تبدیلی کا یہ اثر پڑا کہ شریف حسن کے سب سے ہوشیار اور ذکی فرزند امیر فیصل کو اپنی آئندہ امیدوں کو خیر باد کہہ کر ایک شام کی بادشاہت پر قناعت کرنی پڑی ۔ وہاں اس کا ایک اور بھی اُلٹا اثر ہوا ۔ اور وہ یہ تھ ر وہ یہ تھا کہ امیر نجد ابن سعود سعود کے غضب کی آگ امیر فیصل کے امیر عراق ہونے پر بھڑک اٹھی ۔ امیر نجد جیسا کہ آگے بیان ہو گا شریف مکہ کے خاندانی دشمن تھے ۔ اور ان کی دشمنی کئی نسل پرانی دشمنی تھی۔ جب عرب کے شریف کے خاندان کے نیچے متحد کر دینے کا سوالی اٹھتا تھا تو طبعا ان کو برا لگتا تھا۔ کیونکہ اس کے یہ معنی تھے کہ نہ صرف ان کا دشمن خاندان اس قدر اقتدار دیا جائے بلکہ وہ ان کے علاقہ پر بھی قبضہ کرلے اور ان کو اس کے ماتحت ہو کر رہنا پڑے ۔ پس جب انہوں نے دیکھا کہ امیر فیصل کو شام سے جواب مل گیا ہے تو ان کو بہت خوشی ہوئی ۔ اور جب انہوں نے دیکھا کہ ڈول متحدہ نے خلاف وعدہ عرب کو مختلف ریاستوں میں تقسیم کر دیا اور پاک حکومت میں جمع کرنے کی نہ خود کوشش کی اور نہ عربوں کو اس کے لئے کوشش کرنے کی اجازت دی وہ طبعا خوش ہوئے اور انہوں نے مزید اطمینان کے لئے انگریزوں سے ایک معاہدہ کر لیا ۔ بظاہر تو معاہدہ یہ تھا کہ وہ حجاز کے علاوہ پر حملہ نہ کریں گے مگر اس کالازمی مفہوم