انوارالعلوم (جلد 9) — Page 66
انوار العلوم جلد 9 44 حج بیت اللہ اور فتنہ حجاز والے فرقوں سے تعلق رکھتا ہے خواہ احمد ی ہوں خواہ غیر احمدی۔ جس وقت ترک جنگ عظیم میں شامل ہوئے ہیں اس وقت ڈول متحدہ یعنی برطانیہ، فرانس اور اٹلی نے کوشش شروع کی کہ عرب لوگ ان کے ساتھ مل جاویں اور ترکوں کا ساتھ چھوڑ دیں۔ اس سے ان کی تین غرضیں تھیں۔ ایک تو یہ کہ ترکوں کی طاقت کمزور ہو جائے گی۔ اور ان کو کچھ حصہ فوج کا عربوں کے مقابلہ کے لئے رکھنا پڑے گا۔ خصوصاً یہ خیال تھا کہ مصر محفوظ ہو جائے گا۔ کیونکہ مصر کی طرف راستہ عرب علاقہ میں سے گزر کر جاتا ہے۔ دوسری یہ کہ ترکوں کو غلہ مہیا کرنے والے حصے زیادہ تر عرب علاقے ہیں۔ یعنی عراق اور شام - پس عربوں کو ساتھ ملانے سے اتحادیوں کو امید تھی کہ ترکوں کو غلہ وغیرہ مہیا کرنے میں دقت ہو گی۔ تیسری وجہ یہ تھی کہ اتحادی خیال کرتے تھے کہ اگر عرب لوگ ساتھ مل گئے تو عالم اسلامی کو جو ہمد ردی ترکوں سے ہے وہ نہ رہے گی۔ کیونکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ساکنین ہمارے ساتھ مل جاویں گے۔ چونکہ ترکی حکومت کے دور جدید میں عربوں پر سخت ظلم کئے جاتے تھے ان کو اچھے عہدے نہیں دیئے جاتے تھے عربی زبان کو مٹایا جاتا تھا اور عرب قبائل کو جو مد د سلطان عبد الحمید خان کی طرف سے ملتی تھی وہ بند کر دی گئی تھی۔ اس لئے عرب بد دل تو پہلے ہی سے ہو رہے تھے بعض شمالی امراء اور شریف مکہ کے نمائندوں کے ساتھ تبادلہ خیالات کے بعد عرب لوگ اس شرط پر اتحادیوں کے ساتھ ملنے کے لئے تیار ہو گئے کہ کُل عرب کی ایک حکومت بنا کر عربوں کو پھر متحد کر دیا جائے گا۔ چونکہ شریف مکہ ہی اس وقت کھلے طور پر لڑ سکتے تھے اس لئے انہی کو امید دلائی گئی اور انہی کو امید پیدا بھی ہوئی کہ وہ سب عرب کے بادشاہ مقرر کر دیئے جائیں گے ۔ اس معاہدہ کے بعد شریف حسن شریف مکہ نے اپنے آپ کو اتحادیوں ۔ وں سے ملا دیا۔ اور ترکوں کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا ۔ یہ جون ۱۹۱۶ء میں ہوا۔ جبکہ قطر پر مشہور انگریزی جنرل ٹاؤن شنڈ کو سب فوج سمیت ترکوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے تھے ۔ اور جبکہ ترکی فوجیں غلبہ حاصل کر رہی تھیں۔ پس عربوں کا اس وقت اتحادیوں کی مدد کے لئے کھڑا ہونا بتاتا ہے کہ وہ نہایت سنجیدگی سے اپنی آزادی حاصل کرنے کے درپے تھے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی بتاتا ہے کہ اتحادیوں کو ان کا مدد دینا انتہائی درجہ کی قربانی پر مشتمل تھا اور ان کا شکریہ اتحادیوں پر لازم ۔ اس بغاوت کا نتیجہ یہ ہوا کہ گو اتحادیوں کو کچھ تو فائدہ پہنچ گیا مگر جو فوائد ان کو مد نظر تھے وہ نہ پہنچے۔ مسلمانوں کی عام ہمدردی ان کو حاصل نہ ہوئی بلکہ مسلمانوں کے دل اتحادیوں کے بغض