انوارالعلوم (جلد 8) — Page 60
انوار العلوم جلد ۸ ۶۰ قول الحق ان میں سے ایک اعتراض یہ ہے کہ حضرت حضرت مسیح موعود اور حیض کا الزام صاحب کا الہام ہے يُرِيدُونَ أَنْ يَرَوْا طَمْتَكَ وَاللهُ يُرِيدُ أَنْ يُرِيَكَ إِنْعَامَةَ الْإِنْعَامَاتِ الْمَتَوَاتِرَةَ " حضرت مسیح موعود علیہ السلام پلیدی اور ہیں " یہ لوگ خون حیض تجھ میں دیکھنا چاہتے ہیں یعنی ناپاکی اور پا نے اس کے معنی یہ لکھے ہیں ” یہ خباثت کی تلاش میں ہیں اور خدا چاہتا ہے کہ اپنی متواتر نعمتیں جو جو تیرے پر ہیں دکھلاوے کے پھر اس کی تشریح میں آپ تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۴۳- ۱۴۴ میں تحریر فرماتے ہیں۔ حیض ایک نا پاک چیز ہے مگر بچہ کا جسم اس سے تیار ہوتا ہے اسی طرح جب انسان خدا کا ہو جاتا ہے تو جس قدر فطرتی ناپاکی اور گند ہوتا ہے جو انسان کی فطرت کو لگا ہوا ہوتا ہے اس سے ایک روحانی جسم تیار ہوتا ہے یہی طمث (حیض) انسانی ترقیات کا نتیجہ ہے اسی بناء پر صوفیہ کا قول ہے کہ اگر گناہ نہ ہو تا تو انسان کوئی ترقی نہ کر سکتا۔ آدم کی ترقیات کا بھی یہی موجب ہوا، پس ہر ایک ابن آدم اپنے اندر ایک حیض کی ناپاکی رکھتا ہے مگر وہ جو سچے دل سے خدا کی طرف رجوع کرتا ہے وہی حیض اس کا ایک پاک لڑکے کا جسم تیار کر دیتا ہے۔ اسی بناء پر خدا میں فانی ہونے والے اطفال اللہ کہلاتے ہیں۔ ا لیکن یہ نہیں کہ وہ خدا کے در حقیقت بیٹے ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ تو کلمہ کفر ہے اور خدا بیٹوں سے پاک ہے بلکہ اس لئے استعارہ کے رنگ میں وہ خدا کے بیٹے کہلاتے ہیں کہ وہ بچہ کی طرح دلی جوش سے خدا کو یاد کرتے ہیں"۔ ^ یہ الفاظ ہیں جن پر مولوی تین دن ہنسی اڑاتے رہے اور کہتے رہے کہ مرزا صاحب کو اسی طرح حیض آتا تھا جس طرح عورتوں کو آتا ہے۔ اول تو حضرت صاحب نے خود تشریح کر دی ہے کہ حیض سے مراد طبعی کمزوریاں ہیں اور یہ استعارہ ہے۔ پس جب لکھنے والا کہتا ہے کہ حیض سے مراد حیض نہیں تو پھر بھی اس پر زور دینا اس سے زیادہ غیر شریفانہ کیا بات ہو سکتی ہے۔ دوسرے یہ اصطلاح حضرت مرزا صاحب ہی ہی کی نہیں اصطلاح حیض اور گذشتہ بزرگ ہے بلکہ جن کو یہ لوگ بزرگ کہتے ہیں انہوں نے بھی لکھا ہے چنانچہ مجالس الأبرار میں لکھا ہے وَأَمَّا الْكَرَامَةُ بِمَعْنَى ظُهُورِ أَمْرٍ خَارِقٍ لِلْعَادَةِ فَلَا عِبْرَةً لَّهَا بَلْ هِيَ حَيْضُ الرِّجَالِ نه که کرامت ولیوں کے لئے حیض کے طور پر ہوتی ہے کہ اسے چھپاتے ہیں۔