انوارالعلوم (جلد 8) — Page 59
انوار العلوم جلد ۸ ۵۹ قول الحق نہیں گذرا جس کی ان مولویوں نے بے عزتی نہیں کی اور نبیوں پر انہوں نے چوری ، جھوٹ، دعا قتل، زنا کے الزام نہیں لگائے اگر انہوں نے ان انبیاء کو سچا مانتے ہوئے یہ کیا ہے تو جسے سچا نہیں مانتے اس کے ساتھ جو کچھ کریں تھوڑا ہے۔ مخالف مولویوں سے ایک شکوہ ہاں صرف ایک شکوہ ہے وہ ہے اور وہ یہ کہ اے مولو یہ کہ اے مولویو! ائے محمد اللہ کی امت کہلانے والو! اے عقل و خرد کا دعوی کرنے والو! جب تم کسی نبی کو چور کسی کو جھوٹا، کسی کو دوسرے کی عورت چھین لینے والا اور رسول کریم کو اپنی پھوپھی کی شادی شدہ بیٹی پر عاشق ہو کر اس سے شادی کرنے والا کہتے ہو اور باوجود اس کے ان کو سچے نبی مانتے ہو تو کیوں آج اس نبی کو نہیں مانتے جس پر اسی قسم کے الزام لگاتے ہو۔ تم تو ہمیشہ نبیوں کے عیب نکالتے چلے آئے ہو جو تمہاری عقل کی کوتاہی ہے پھر آج کیوں انکار کر رہے ہو۔ یہ سوال تم ان لوگوں سے کر سکتے ہو اور یہ جائز سوال ہے کیونکہ ایک بھینگا جس کو تجربہ ہو کہ وہ ایک چیز کو روہی دیکھتا ہے وہ اس بات کو سمجھ جاتا ہے اور جب وہ دیکھتا ہے تو کہتا ہے ایک ہی ہے۔ کہتے ہیں کوئی بھینگا نو کر تھا آقا نے اسے کہا کہ شیشہ اٹھالاؤ وہ گیا تو اسے دو شیشے نظر آئے واپس آکر آقا سے کہا کو نسالاؤں۔ آقا نے کہا ایک ہی ہے وہ لے آؤ مگر وہ بار بار یہی کہتا رہا کہ دو ہیں تنگ آکر آقا نے کہا ایک کو توڑ دو اور دوسرا لے آؤ۔ اس نے جب ایک کو تو ڑا تو کوئی بھی نہ رہا۔ اس سے اس کو معلوم ہو گیا کہ میں ایک ہی کو دو دیکھتا تھا۔ تو کبھینگے کو پتہ ہوتا ہے کہ چیز ایک ہوتی ہے اور وہ دیکھا دو ہے۔ مگر افسوس ! ان بھینگوں پر کہ حضرت نوح حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ حضرت داؤد ، حضرت سلیمان اور حضرت رسو ا اور حضرت رسول کریم ال میں انہوں نے عیب دیکھے اور خدا نے کہا یہ سچے ہیں اس بات کو انہوں نے بھی تسلیم کیا مگر آج اتنی مثالیں ہوتے ہو ۔ نے ہوئے بھی انہیں یہ اپنا ما یہ پتہ نہ لگا کہ سب نبیوں میں انہیں عیب ہی نظر آتے رہے ہیں یہ لوگ سات ہزار سال سے نبیوں میں عیب دیکھتے چلے آئے ہیں پھر بھی ان کو پتہ نہ لگا کہ ان کی آنکھ میں نقص ہے اس لئے انہیں عیب نظر آتے ہیں ورنہ حضرت مرزا صاحب بھی خدا کے سچے نبی ہیں۔ ان لوگوں نے جو اعتراض کئے ہیں ان میں سے بعض موٹے موٹے میں نے سنے ہیں جنہیں سن کر حیرت ہوتی ہے۔