انوارالعلوم (جلد 8) — Page 61
انوار العلوم جلد ۸ قول الحق ہیں۔ پس اگر سارے بزرگانِ اُمتِ محمدیہ کو حیض آتا تھا اور حضرت مرزا صاحب کو آیا تو کیا ہوا ۔ پھر شیخ فرید الدین عطار یہی لفظ تذکرۃ الاولیاء کے صفحہ ۴۶۱ میں استعمال کرتے ہیں چنانچہ لکھتے " جیسے عورتوں کو حیض آتا ہے ایسا ہی ارادت کے راستہ میں مریدوں کو حیض آتا ہے اور مرید کے راستہ میں جو حیض آتا ہے تو وہ گفتار سے آتا ہے اور کوئی مرید ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ اس حیض میں ہی پڑا رہتا ہے اور کبھی اس سے پاک نہیں ہوتا"۔ بات یہ ہے کہ ہر مرید پر ایسی حالت آتی ہے جو حیض کی ہوتی ہے۔ جبکہ اس پر علوم کا دروازہ کھلتا ہے اس کی زبان پر جو دعوے آتے ہیں وہ حیض ہوتے ہیں پھر جس طرح حیض کے بند ہونے سے بچہ بنتا ہے اسی طرح ان کے دعوے کے بعد جب نتیجہ نکلتا ہے تو وہ بچہ ہوتا ہے پس اگر پہلوں نے اس لفظ کو استعمال کیا ہے تو کیا ہوا اگر حضرت مرزا صاحب نے بھی استعمال کر لیا۔ مگر اصل بات یہ ہے تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ " ان کے دل ان لوگوں سے مل گئے جو نبیوں پر اعتراض کرتے چلے آئے ہیں۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود پر جو اعتراض کیا جاتا ہے وہ مولویوں کی عربی دانی نہ صرف آپ کی تشریح کے خلاف ہے بلکہ ان لوگوں کی عربی دانی کو بھی ظاہر کرتا ہے کیونکہ طمث کے معنے لغت میں حیض ہی کے نہیں بلکہ گندگی اور فساد کے بھی ہیں اور چھوٹی سے چھوٹی لغت سے لے کر بڑی سے بڑی تک میں یہی ہیں۔ چنانچہ منجد جو بچے استعمال کرتے ہیں اس میں لکھا ہے۔ اس میں لکھا ہے ۔ الطَّبْتُ الدَّنَسُ - الْفَسَادُ الدَّمُ الرِّيبَةُ " يعني اس کے معنے میل ۔ فساد۔ خون ۔ حیض ۔ شک و شبہ کے ہیں۔ اس لئے اس الہام کے یہ معنے ہوئے کہ لوگ چاہتے ہیں کہ تیرے اندر کوئی عیب اور بدی دیکھیں یا ایسی بات دیکھیں کہ جو شک ر شبہ والی ہو ۔ مگر خدا ان کو ناکام رکھے گا اور تیری صداقت کو پھیلائے گا۔ اب بتاؤ ان معنوں کی روسے کونسا اعتراض اس کشف پر پڑ سکتا ہے خود حضرت صاحب نے اس کے معنے ناپاکی اور گندگی کئے ہیں۔ کیا یہ لوگ آپ کی ناپاکی اور گندگی کی تلاش نہیں کرتے۔ اسی الہام کی یہ صداقت ظاہر ہو رہی ہے جو کچھ ان لوگوں نے بیان کیا ہے۔ اور