انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 40

انوار العلوم جلد ۸ ۲۰ بهائی فتنہ انگیزیوں کا راز کیونکر فاش ہوا؟ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ بہائی فتنہ اور جماعت احمد یہ (فرموده ۲۰- مارچ ۱۹۲۴ء) ہماری جماعت کی طرف منسوب ہونے والے دو تین آدمی جن سے بعض لوگ شناسا ہیں ۔ ان کی دینی حالت اور تقویٰ تو ایسا نہ تھا کہ جس کی وجہ سے جماعت میں کوئی رتبہ رکھتے تھے ۔ مگر وہ چونکہ کام ایسے پر تھے جو جماعت سے تعلق رکھتا تھا اس لئے لوگ ان سے واقف تھے ۔ اور وہ لوگوں سے واقف - انہوں نے غداری سے سلسلہ کے خلاف ایسی کارروائیاں کی ہیں کہ جن کی کسی شریف انسان سے توقع نہیں کی جاسکتی۔ وہ تین شخص ہیں محفوظ الحق علمی - مهر محمد خاں اور اللہ دتہ ۔ ان کے متعلق یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ وہ مخفی طور پر بہائیوں کی تعلیم پھیلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں ایک کے متعلق تو سنا ہے کہ وہ آیا ہی اس غرض سے تھا اور دوسرے، اس کے اثر کے نیچے آکر بہائی ہو گئے ۔ جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہیں۔ مذہبی معاملہ میں مذہبی معاملہ میں ہماری فراخ حوصلگی ہم لوگ تنگ دل نہیں ہیں ۔ ہم ایسے حوصلہ سے مخالفین کی باتیں سنتے ہیں کہ دوسرے برداشت ہی نہیں کر سکتے۔ میں اپنا ہی ایک واقعہ بیان کرتا ہوں مصر کے سفر میں تین آدمی ہندوستانی اس جہاز پر سوار تھے جس پر میں تھا۔ وہ ولایت میں پڑھتے تھے ۔ گھر ملنے آئے تھے اور پھر واپس جا رہے تھے ۔ وہ تین سال ولایت رہ آئے تھے۔ اور اس رہائش سے دہر یہ ہو گئے تھے۔ ان کو جو احمدیت سے مخالفت ہو سکتی تھی وہ ظاہر ہے۔ انہوں نے مجھ سے مذہبی گفتگو شروع کی۔ جو نہی انہوں نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا۔ انہوں نے سمجھا کہ یہ مذہبی آدمی ہے اس لئے گفتگو کرنے لگ ، لگ گئے ۔ شروع گفتگو میں ہی انہیں معلوم ہو گیا کہ میں احمدی جماعت سے تعلق رکھتا ہوں۔ اس سے وہ اور بھی جوش دکھانے لگے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ