انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 41

انوار العلوم جلد ۸ ۴۱ بھائی فتنہ انگیزیوں کا راز کیونکر فاش ہوا؟ السلام پر ایسے گندے حملے کرنے لگے کہ ان کو برداشت کرنا مشکل تھا۔ لیکن میں نے انہیں یہ معلوم نہ ہونے دیا کہ میں حضرت مسیح موعود کا لڑکا ہوں تاکہ وہ آزادی سے اعتراض کر سکیں۔ انہوں نے بڑے بڑے سخت حملے کئے۔ جھوٹے ۔ فریبی دوکاندار وغیرہ کہا اور عجیب عجیب تمسخر کرتے رہے۔ جب وہ سارے تیر چلا چکے اور میری گفتگو سے دینے لگے۔ اور اپنے خیالات کی انہیں غلطی محسوس ہو گئی۔ اور انہوں نے اقرار کیا کہ ان کے خیالات میں تغیر پیدا ہو گیا ہے۔ تب میں نے بتایا کہ میں حضرت مسیح موعود کا لڑکا ہوں۔ اس پر وہ مجھ سے معافی مانگنے لگے اور کہا آپ نے پہلے کیوں ہوں نہ بتایا۔ میں نے کہا اس لئے نہیں بتایا تھا کہ تا آپ لوگ آزادی سے ا اعتراض کریں۔ اگر میں بتا دیتا تو یورپ کی اس تہذیب کی وجہ سے جو انہوں نے سیکھی تھی یہی کہتے کہ وہ بچے تھے ۔ اور جو گند ان کے دلوں میں تھا اسے ظاہر نہ کرتے اور وہ دور نہ ہو سکتا۔ اسی طرح تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے کہ یہاں ایک ڈاکٹر آیا جو بھائی تھا اس کو ہم نے بطور مہمان رکھا۔ اپنے مکان میں اتارا۔ وہ اپنے خیالات پھیلا تا رہا کئی لوگوں نے کہا کہ اس کو نکال دینا چاہیے تا اس کا بد اثر کسی پر نہ ہو لیکن میں نے کہا کہ تم بھی اپنے خیالات اسے سناؤ۔ ہم غداری کو برداشت نہیں کر سکتے ہیں ہم اس بارہ میں تک دل نہیں مگر یہ بھی برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی ہم سے غداری اور دھو کا کرے اگر کوئی کسی اور مذہب کو پسند کرتا ہو تو آئے اپنے خیالات اور اعتراضات پیش کرے تا کہ اگر ہم ان کا ازالہ کر سکیں تو کریں۔ مگر انہوں نے نہ صرف اپنا خیال ظاہر نہ کیا بلکہ در پردہ دوسرے لوگوں کو متاثر کرنا چاہا۔ اور ان کو کہا کہ ان باتوں کو مخفی رکھیں تاکہ ان کے شکوک رفع نہ ہو سکیں۔ پھر اس سے بڑھ کر انہوں نے غداری یہ کی کہ ایسی حالت میں ان کاموں پر مأمور رہے جن کی غرض اشاعت احمدیت ہے۔ وہ تنخواہ اس کام کے لئے لیتے رہے مگر کام اس کے خلاف کرتے رہے۔ اور بعض مضامین بھی خلاف لکھے ۔ ان کی مثال ایسی ہی ہے کہ ایک آدمی کو روپیہ دیں اور کہیں کہ ہمارے لئے زمین خرید و - وہ جائے اور کہے میں نے تمہارے لئے زمین خریدی ہے مگر ور پر وہ اپنے نام زمین لکھا لے۔ ایسا شخص ایک غدار اور فریبی سمجھا جائے گا۔ لیکن اس سے بڑھ کر وہ غدار اور فریبی سمجھا جائے گا جو دین میں ٹھگی کرتا ہے۔ ایسے شخص کی ہم شکل بھی دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ پھر ایسا شخص اگر یہ کہے کہ جو مذہب ہم نے قبول کیا ہے وہ اس لئے آیا ہے کہ اخلاق کی اصلاح کرے ۔ اور یہ سب سے اعلیٰ مذہب ہے تو یہ کس قدر جھوٹ ہو گا۔ اور