انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 36

انوار العلوم جلد ۸ ۳۶ بسائی فتنہ انگیزوں کا راز یو نمر فاش ہوا؟ اور صحیح کہتے ہیں کہ جس جنگل میں شہر ہو وہاں کوئی نہیں جاتا۔ یا جس جنگل میں ڈاکہ پڑتا ہو وہاں سے لوگ بغیر حفاظت کے نہیں گزرتے ۔ پھر با وجود عرفان حاصل ہونے کے سمجھ میں نہیں آتا کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ کیوں فرمایا ۔ عرفان کے بعد غضب اور ضلالت کا کیا خوف ؟ مگر میں کہتا ہوں یہ سچ ہے کہ عرفان کے بعد اس کا خوف نہیں ہو تا لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے کہ عرفان کھویا بھی جاتا ہے۔ پس اعلیٰ سے اعلیٰ عرفان اور علم کسی کو مطمئن نہیں کر سکتا کہ وہ غضب اور ضلالت سے بالکل ممنون ہو گیا۔ کیونکہ ممکن ہے کہ ایک شخص کو عرفان اور علم ہو مگر وہ اس سے چھینا جائے یا کھویا جائے ۔ دنیا میں دیکھ لو ۔ ایک انسان دوسرے کو ملتا ہے۔ اس حال عرفان کھوئے جانے کی مثال میں کہ وہ دونوں ایک لمبا عرصہ جدا رہتے ہیں جب وہ ملتا ہے تو کہتا ہے آپ نے مجھے پہچانا۔ وہ کہتا ہے نہیں۔ تو وہ کہتا ہے کہ میں اور آپ اکٹھے کھیلتے اور پڑھتے رہے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ ابھی تک میں نے آپ کو نہیں پہچانا۔ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ بہت کچھ تعارف سابقہ کی باتیں بتانے کے بعد بھی ایک شخص یہی کہتا ہے کہ افسوس میں نے آپ کو اب تک نہیں پہچانا اس سے ثابت ہوا کہ علم اور عرفان مٹائے بھی جاتے ہیں۔ ہونے کے باوجود لوگ راستہ معلوم ہونے اور اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص ہدایت کے بعد ضلالت مخلص تھا، بڑا خادم تھا اس کو کیونکر ٹھوکر لگ گئی ۔ اس کو ٹھو کر اسی وقت لگتی ہے جب اس کا اخلاص کھویا جاتا ہے ۔ یا مٹ جاتا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ صحیح دلوگ راستہ سے ہٹ ۔ ہٹ جایا کرتے ہیں ہدایت کو اختیار رایت کو اختیار کر کے بھول بھی جایا کرتے ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے۔ وَمَنْ نُعَمِّرْهُ نُنَكِسْهُ فِي الْخَلْقِ " جب عمر بڑھتی ہے تو قوی میں کمزوری آجاتی ہے ۔ پس جس طرح عمر میں بڑھاپا آنے سے علوم میں کمی آجاتی ہے ۔ اسی طرح بعض انسانوں پر روحانی طور پر بھی بڑھاپا آ جاتا ہے۔ ایسی حالت میں کوئی عارف یا عالم جو الْحَمْدُ لِلهِ کہنا جانتا ہو مگر پھر اس سے اس کی حقیقت گم ہو جائے وہ مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ میں شامل ہو سکتا ہے۔ سورہ فاتحہ میں یہ بات بتا کر اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ کسی کی ٹھو کر اپنی فکر آپ کرو سے کوئی ٹھو کر نہ کھائے اور کسی کے گرنے سے کوئی نہ گرے۔ نہ گرے ۔ جب تک کسی شخص کے متعلق خدا نہ کہہ دے کہ یہ شخص غلطی سے محفوظ ہو گیا اور اب یہ ٹھو کر نہیں کھا