انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 37

انوارا العلوم جلد ۸ ۳۷ بھائی فتنہ انمیزون کار از کیونکر فاش ہوا؟ سکتا تب تک کسی شخص کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ شخص منزل مقصود پر پہنچ گیا۔ اور ایسے لوگ جن کو غضب ) اور ضلالت سے محفوظ کر دیا جاتا ہے وہ خدا کے انبیاء ہوتے ہیں ۔ ۔ وہ ۔ بچے کی طرح خدا کی گود میں ہوتے ۔ ہوتے ہیں۔ خدا ان کے وجود کو اپنا وجود قرار دے دیتا ہے اور ان پر اپنی الوہیت کی چادر ڈال دیتا ہے ۔ ان میں خدا کی الوہیت تو نہیں آجاتی مگر وہ خدا کے مظہر ہو جاتے ہیں۔ ان کی تعریف کی تعریف اور ان کی حمد کچی محمد ہوتی ہے۔ ان کے علاوہ کوئی شخص ایسا نہیں ہو تا جس کے متعلق کہا جائے کہ وہ ٹھو کر کیوں کھا گیا۔ ایک شخص کے متعلق رسول کریم اللہ نے فرمایا اگر کسی شخص نے ایک عبرتناک مثال جنسی دیکھنا ہو تو اس شخص کو دیکھ لئے، یہ کہ کر آپ نے ایک ایسے شخص کی طرف اشارہ فرمایا جو لڑائی میں کفار سے بڑی سرفروشی تے لڑ رہا تھا۔ ایک صحابی کہتے ہیں مجھے خیال ہوا کہ بعض لوگوں کو اس بات سے ابتلاء نہ آجائے کہ ایک ایسے مخلص شخص کو جہنمی کہا گیا ہے کیونکہ وہ اس طرح لڑ رہا تھا کہ مسلمان کہہ رہے تھے کہ خدا تعالیٰ اس کو جزائے خیر تجھے دے ۔ وہ صحابی اس کے پیچھے ہو لئے ۔ آخر وہ زخمی ہوا۔ اس نے رونا شروع کیا۔ صحابہ آکر کہتے تھے جنت کی بشارت ہو ۔ مگر وہ کہتا تھا کہ تم مجھے جنت کی بشارت نہ دو بلکہ جہنم کی بشارت دو کیونکہ میں خدا کے لئے نہیں اپنے نفس کے لئے لڑ رہا تھا۔ آخر جب وہ دروست بیتاب ہو گیا تو اس نے اپنا نیزہ گاڑا اور اپنا پیٹ اس پر رکھ کر ہلاک ہو گیا ہے اس طرح خود کشی کر کے اس نے ثابت کر دیا کہ وہ جہنمی تھا پس کسی شخص کی حالت محفوظ نہیں ہوتی جب تک خدا تعالٰی اس کے وجود کو اپنا وجود نہ کہہ دے اور اس کی یہ حالت نہ ہو جائے ۔ من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی تاکس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری پس کتنا ہی مخلص اور کتنی ہی خدمت کرنے والا کوئی ہو یہ کہنا کہ وہ ٹھوکر نہیں کھا سکتا درست نہیں۔ اس وقت مجھے کیا علم تھا کہ کیا ہو رہا ہے ۔ لیکن مجھے القاء کیا گیا تھا کہ کچھ لوگوں کو ٹھوکر لگنے والی ہے ۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ خطبہ پڑھتے وقت کوئی خاص آدمی مد نظر نہیں تھا۔ مگر مجھے بتایا گیا تھا کہ ایسے آدمی ہیں جو ٹھو کر کھائیں گے ۔