انوارالعلوم (جلد 8) — Page 35
انوار العلوم جلد ۸ ۳۵ ہائی فتنہ انگیزوں کار از کیونکر فاش ہوا؟ ہے جو قرآن جیسی کتاب تمہیں عنایت کی ۔ میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ کتاب جو تم پر پڑھی گئی اگر عیسائیوں پر پڑھی جاتی تو وہ ہلاک نہ ہوتے ۔ اور یہ نعمت اور ہدایت جو تمہیں دی گئی اگر بجائے تو ریت کے یہودیوں کو دی جاتی تو بعض فرقے ان کے قیامت سے منکر نہ ہوتے۔ پس اس نعمت کی قدر کرو جو تمہیں دی گئی یہ نہایت پیاری نعمت ہے۔ یہ بڑی دولت ہے۔ اگر قرآن نہ آتا تو تمام دنیا ایک گندے مفغہ کی طرح تھی۔ قرآن وہ کتاب ہے جس کے مقابل پر تمام ہدا ئتیں ہیچ ہیں ۔ یہ وہ تعلیم ہے کہ جو حضرت مسیح موعود بہاء اللہ کے مرنے کے بعد دے ے رہے ہیں۔ اور آپ کا عمل تو ظاہر ہی تھا۔ ان حالات میں یہ خیال ایک منٹ کے لئے بھی درست نہیں ہو سکتا کہ حضرت مسیح موعود اور بہاء اللہ جمع ہو سکتے ہیں۔ یہ خیال ایسا ہی ہے جیسے تاریکی اور روشنی کو رات اور دن کو جمع کیا جائے ۔ حیرت ہے کہ ان لوگوں کو جنہوں نے کئی نشان دیکھے کیونکر ٹھوکر لگ صداقت کے اظلال گئی۔ کوئی صداقت ایسی نہیں جو ظل نہیں چھوڑتی انہوں نے حضرت مسیح موعود کے اخلال دیکھے ۔ حضرت مسیح موعود کے اطلال میں سے ایک میں ہوں بہاء اللہ کے خلیفہ کو مقابلہ پر لاؤ کہ جس پر خدا نے ایسے کلام نازل کئے جو وقت پر پورے ہوئے اور آج بھی میں کہتا ہوں لاؤ میرے مقابلے میں عبد البہاء کے خلیفہ کو اور پھر دیکھیں خدا تعالی کس کی صداقت ظاہر کرتا ہے۔ میں نے رنگون ایک شخص کو لکھا تھا کہ لاؤ بھائی خلیفہ کو ۔ مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا اللہ تعالیٰ جس طرح ہم پر باتیں کھولتا ہے اس کی ایک دو تازہ مثالیں پیش کرتا ہوں۔ میں نے اس مسجد میں کھڑے ہو کر گذشتہ فروری میں ایک خطبہ جمعہ پڑھا تھا جس میں کہا تھا۔ اس عظیم الشان ابتداء کے بعد جو گمراہ ہونے والوں کا ذکر ایک خطبہ جمعہ میں الحمد سے ہوتی ہے کہتا ہے۔ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ - کہ خدا یا مجھ پر غضب نہ نازل کرنا اور ایسا نہ ہو کہ میں تیری رضا کی راہ سے بہک جاؤں۔ لوگ کہتے ہیں اور سچ کہتے ہیں کہ علم و معرفت سے انسان ہلاکت سے بچتا ہے ۔ لوگ کہتے ہیں