انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 34

انوار العلوم جلد ۸ سمسم بھائی فتنہ انگیزوں کا راز کیونکر فاش ہوا ؟ " قرآن شریف پر شریعت ختم ہو گئی ، پھر صفحہ ۲۴ پر تحریر فرماتے ہیں۔ "میرا مذہب یہ ہے کہ تین چیزیں ہیں کہ جو تمہاری ہدایت کے لئے خدا نے تمہیں دی ہیں۔ سب سے اول قرآن ہے ۔ جس میں خدا کی توحید اور جلال اور عظمت کا ذکر ہے۔ اور جس میں ان اختلافات کا فیصلہ کیا گیا ہے جو یہود اور نصاریٰ میں تھے ۔ جیسا کہ یہ اختلاف اور غلطی کہ عیسی ابن مریم صلیب کے ذریعہ قتل کیا گیا اور وہ لعنتی ہوا اور دوسرے نبیوں کی طرح اس کا رفع نہیں ہوا ۔ اسی طرح قرآن میں منع کیا گیا ہے کہ : بجز خدا کے تم کسی چیز کی عبادت کرو نہ انسان کی نہ حیوان کی۔ نہ سورج کی نہ چاند کی۔ اور نہ کسی اور ستارہ کی۔ اور نہ اسباب کی اور نہ اپنے نفس کی۔ سو تم ہو شیار رہو ۔ اور خدا کی تعلیم اور قرآن کی ہدایت کے برخلاف ایک قدم بھی نہ اٹھاؤ۔ میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو شخص قرآن کے سات سو حکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو بھی ٹالتا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کرتا ہے۔ حقیقی اور کامل نجات کی راہیں قرآن نے کھولیں اور باقی سب اس کے ظل تھے ۔ سو تم قرآن کو تدبر سے پڑھو اور اس سے بہت ہی پیار کرو ۔ ایسا پیار کہ تم نے کسی سے نہ کیا ہو ۔ کیونکہ جیسا کہ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا: الْخَيْرُ كُلَّهُ فِي الْقُرآنِ کہ تمام قسم کی بھلائیاں قرآن میں ہیں۔ یہی بات سچ ہے۔ افسوس ان لوگوں پر جو کسی اور چیز کو اس پر مقدم رکھتے ہیں۔ تمہاری تمام فلاح اور نجات کا سرچشمہ قرآن میں ہے ۔ کوئی بھی تمہاری ایسی دینی ضرورت نہیں جو قرآن میں نہیں پائی جاتی ۔ تمہارے ایمان کا مُصَدِّقُ یا مُكَذِّب قیامت کے دن قرآن ہے۔ اور بجز قرآن کے آسمان کے نیچے اور کوئی کتاب نہیں جو بلا واسطہ قرآن تمہیں ہدایت دے سکے ۔ خدا نے تم پر بہت احسان کیا دو سر از ریعہ ہدایت کا سنت ہے۔ یعنی وہ پاک نمونے جو آنحضرت ا نے اپنے فعل اور عمل سے دکھلائے ۔ مثلاً نماز پڑھ کے دکھلائی کہ یوں نماز چاہئے اور روزہ رکھ کر دکھلایا کہ یوں روزہ چاہئے اس کا نام سنت ہے یعنی روش نبوی جو خدا کے قول کو فعل کے رنگ میں دکھلاتے رہے۔ سنت اس کا نام ہے۔ تیسرا ذریعہ ہدایت کا -- تیسرا ذریعہ ہدایت کا حدیث ہے جو آپ - آپ کے بعد آپ کے اقوال جمع کئے گئے۔ اور حدیث کا رتبہ قرآن اور سنت سے کم تر ہے کیونکہ اکثر حدیثیں ظنی ہیں لیکن اگر ساتھ سنت ہو تو وہ اس کو یقینی کر دے گی " منہ