انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 33

انوارالعلوم جلد ۸ ٣٣ بھائی فتنہ انگیزون کار از کیو طر فاش ہوا؟ میرے نزد نزدیک اس مذہب کے بچے یا جھوٹے ہونے کے لئے یہی دیکھنا کافی ہے بہائی مذہب کا گند کہ اسے قبول کر کے کر کے انسان اس قدر اس قدر گندا ہو جاتا ہے کہ اسے یہ بھی تمیز نہیں رہتی کہ اس کے انسانی اخلاق کس قدر گر گئے ہیں ۔ اور یہ مذہب ایسا ہی ہے جیسا کہ میں اپنے لیکچروں میں بتاؤں گا۔ ان کا خلیفہ ” و و کنگ" میں خواجہ کمال الدین صاحب کے پیچھے نماز پڑھ آیا۔ امریکہ میں یہ لوگ کہتے ہیں عیسیٰ سب سے بڑے انسان گزرے ہیں۔ مسلمان ملکوں میں یہ کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑے انسان تھے ۔ غرض ان پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے ا نے اخلاق ہے گری اسے گری ہوئی باتیں باتیں کہیں۔ انسان جو معاہدہ کرتا ہے اسے تو ڑ بھی سکتا ہے مگر دیکھو اسلام نے کیسی کے علیٰ تعلیم دی ہے جو یہ ہے کہ جب معاہدہ تو رو تو پہلے اس کے متعلق اطلاع دو۔ جب ایک شخص اقرار بیعت کرتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ اگر تو ڑا ہے تو توڑنے کی اطلاع دے مگر انہوں نے نہ دی۔ اور ان کے بیانات سے یہ پتہ لگتا ہے کہ جو عہد انہوں نے کیا تھا اس کو انہوں نے توڑا اور مہینوں توڑتے چلے گئے ۔ غرض ہم میں مل کر، ہم میں رہ کر اور ہم میں اپنے آپ کو شامل کر کے وہ باتیں انہوں نے کیں جو کسی طرح انہیں شامل نہیں رکھ سکتیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت مسیح موعود کو بھی سچا سمجھتے حضرت مسیح موعود کو ماننے کا ادعا ہیں۔ عمر حضرت صاحب تو تو لکھتے ہیں کہ جو قرآن کے ایک شعشہ کو بھی مٹائے وہ کافر ہے اور اگر میں مٹاؤں تو میں بھی کافر ہوں۔ مگر یہ ایک طرف ان کو سچا کہتے ہیں اور ایک طرف اس کی صداقت کا اظہار کرتے ہیں جو شریعت کو نماز کو روزوں کو ، حتی کہ قرآن کو منسوخ قرار دیتا ہے اور نئی شریعت لانے کا مدعی ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ احمدیوں کو دھوکا دینے کے لئے یہ کہا جاتا ہے کہ ہم حضرت صاحب کو سچا سمجھتے ہیں۔ پھر حضرت مرزا صاحب اس کے بعد آ۔ بعد آئے اور جو نئی شریعت کا مدعی ہے وہ آپ سے پہلے گزر چکا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ خدا اپنے راستباز اور ملهم (یعنی حضرت صاحب) کو نہیں بتاتا کہ نئی شریعت آگئی ہے اور اسلامی شریعت منسوخ ہو چکی ہے۔ اور اگر بتاتا ہے تو وہ منافقت سے چھپائے رکھتا ہے اور لوگوں کو بتاتا نہیں۔ اسلام اور حضرت مسیح موعود حضرت صاحب اپنی کتاب کشتی نوح میں فرماتے ہیں کہ :-