انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 633 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 633

انوار العلوم جلد ۸ ۶۳۳ دورہ یورپ نہیں کہہ سکتا کہ میں پٹھان نہیں ، میں پشتو نہیں جانتا ۔ اس امر کی ضرورت اس وقت ہوتی جب ہمارے شہیدوں کے پٹھان قاتل ہوتے ۔ امیر امان اللہ خان صاحب قاتل ہوتے ۔ ان کے قاتل تو روحانیت کی کمی، اسلام سے بعد اور جہالت کی فراوانی ہے اور یہ ہر جگہ موجود ہے اسے قتل کرنا چاہئے ۔ پس ہر ایک احمدی کا فرض ہے کہ ان خونوں کا انتقام لے ۔ اور ہر ایک احمدی کے سامنے یہ قاتل موجود ہیں ۔ اگر وہ انہیں قتل نہیں کرتا تو اسے اپنے شہیدوں سے کوئی ہمدردی نہیں۔ اور اگر قتل کرتا ہے تو گھر بیٹھے بدلہ لے لیتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جہاں کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے وہاں سے اس کا خاص تعلق ہوتا ہے دعا ہر جگہ ہی ہو سکتی ہے لیکن جہاں کوئی مدفون ہو وہاں دعا ہو وہاں دعا کرتے وقت خاص جوش پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح مولوی نعمت اللہ خان صاحب کی شہادت کا واقعہ جہاں ہوا ہے وہاں کے ساتھ اسے ایسا تعلق ہے کہ جو کبھی جدا نہیں ہو سکتا۔ اور جب بھی کابل کا نام ، مولوی نعمت اللہ خان صاحب کا نام اور امیر امان اللہ خان صاحب کا نام ہمارے کانوں میں پڑے گا ہمارے جذبات کے باریک تاروں کو ہلا کر ایسی آواز پیدا کرے گا جو نہایت ہی رقت آمیز اور درد انگیز ہو گی اس لئے اس علاقہ کی طرف خاص توجہ کرنی چاہئے ۔ مگر جو لوگ اس طرف نہیں جاسکتے ان کی میں ادھر توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ ان کے گھروں میں ان کے محلوں میں ان کے شہروں میں قاتل موجود ہیں ان کی طرف توجہ کریں۔ میں نہیں سمجھ سکتا کوئی شخص اپنے آپ کو انسان کہلاتے ہوئے آدم کی اولاد میں اپنے آپ کو شامل کرنے کا مستحق ہو سکتا ہے جب تک اس کے جذبات اور احساسات ایسے نہ ہوں کہ وہ ان کے ذکر کو تازہ رکھے جنہوں نے اس کی خاطر اپنے خون کو پانی کی طرح بہایا اور اپنے سر کو کٹایا۔ اپنے سارے وقت اور سارے آرام و آسائش کو کلی طور پر اس دنیا سے منقطع کر لیا ہو ۔ ایسے انسانوں کی یاد کو اگر کوئی شخص تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد تازہ نہیں کرتا تو یقینا وہ دنیا کی ادنی ترین مخلوقات سے بھی بدتر ہے کیونکہ کتے میں بھی وفا پائی جاتی ہے۔ اور بہت سے ایسے واقعات سنے جاتے ہیں کہ کوئی شخص مارا گیا تو اس کا کتا بھوکا پیاسا اس کی لاش کے پاس پڑا پڑا مر گیا۔ جب کتے میں بھی اس قدر وفا پائی جاتی ہے تو انسان میں وفا کیوں نہ ہو ۔ پس اگر ہم اپنے آپ کو انسان ثابت کرنا چاہتے ہیں تو وہ جنہوں نے ظاہر طور پر جان دے دی یا اپنے قلوب پر موت وارد کی۔ یعنی خواہ انہوں نے جسمانی قربانی کی خواہ اپنے ہر قسم کے آرام اور خواہش کو قربان کر کے شہیدوں