انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 632 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 632

انوار العلوم جلد ۸ ۶۳۲ دورہ یورپ اور کو قتل کر دے تو اسے اس لئے بڑا نہیں سمجھا جائے گا کہ اس نے بدلہ کیوں لیا بلکہ اس لئے برا سمجھا جائے گا کہ اس نے غیر سے بدلہ لیا۔ اسی طرح ان مظالم میں جو ہمارے بھائیوں پر کابل میں ہوئے ، ہمارے مد نظر کوئی انسان نہیں جس سے ہمیں انتقام لینا ہے کیونکہ وہ تو بندہ ہے چند ناپاک اور غلط خیالات کا۔ وہ تو ہتھیار ہے غلط اور نادرست عقائد کا۔ اور کیا کبھی کسی نے تلوار سے بھی بدلہ لیا ہے۔ نہیں بلکہ تلوار چلانے والے سے بدلہ لیا جاتا ہے ۔ پس ہمارا مجرم وہ جہالت ہے جس میں ہمارے بھائیوں کے قاتل مبتلاء ہیں ہمارا مجرم وہ غلط عقائد ہیں جن کی وجہ سے وہ ایسے فعل کر رہے ہیں پس انتقام ایک نہایت اعلیٰ درجہ کا جذبہ ہے اور ہم اس جذبہ کو مٹانے کے لئے ہر گز تیار نہیں ہیں خواہ ساری دنیا ہی اسے بُرا کیوں نہ کہے اور ہمارے جو بھائی کابل میں شہید کئے گئے ہیں ان کا انتقام لینا ہم پر فرض ہے ۔ مگر آدمیوں سے نہیں بلکہ وہ انتقام ان بد خیالات اور ان جہالتوں سے لینا ہے جو کابل میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اور وہ انتقام یہی ہے کہ ان غلط خیالات اور بد عقائد کو مٹائیں جن کی وجہ سے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ اور جب تک ہم ایسا نہ کریں اس وقت تک ہم یہ کہنے کے مستحق نہیں ہیں کہ ہمیں ان شہیدوں سے تعلق ہے اور ان کے مرنے پر افسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ چیز جو ان کے قتل کی وجہ ہے اسے سامنے دیکھ کر خاموش رہنے کے یہ معنی ہوں گے کہ ہمیں اپنے شہیدوں سے اُنس اور محبت نہیں ہے۔ پس یہ ہمارا فرض ہے اور ہماری غیرت کا تقاضا ہے کہ اس وقت تک آرام نہ کریں جب تک ان چیزوں کو مٹا نہ لیں جو ہمارے بھائیوں کے قتل کا باعث ہیں۔ اس کی طرف میں اس وقت توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ مگر یہ وہ انتقام ہے جس کے لئے کابل یا خوست جانے کی ضرورت نہیں ۔ ہندوستان سے باہر نکلنے کی حاجت نہیں بلکہ اس کے لئے اپنے گاؤں اپنے محلہ اپنے گھر بلکہ اپنے نفس سے بھی باہر جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ مقصد اس کے دل اس کے گھر اس کے محلہ اور اس کے ملک میں بھی موجود ہیں ۔ یا زیادہ واضح الفاظ میں یوں کہہ دوں کہ صاحبزادہ سید عبد اللطیف صاحب اور مولوی نعمت اللہ خان صاحب شہید کے قاتل کابل میں ہی نہیں ہیں بلکہ انسان کے اپنے نفس میں اپنے رشتہ داروں میں اپنے محلہ میں اپنے شہر میں موجود ہیں۔ پس یہ کسی افغان کا ہی فرض نہیں کہ ان شہیدوں کا انتقام لے ۔ وہ شخص ہمارے ساتھ افغان ہونے کی حیثیت سے تعلق نہ رکھتے تھے بلکہ احمدی ہونے کی حیثیت سے تعلق رکھتے تھے۔ اس وجہ سے وہ افغان نہ تھے بلکہ احمدی تھے ۔ اس لئے جو بھی احمدی ہے وہ ان کا رشتہ دار ہے۔ پس انتقام لینے کے لئے ہماری جماعت کا کوئی فرد یہ