انوارالعلوم (جلد 8) — Page 620
انوار العلوم جلد ۸ ۶۲۰ دورہ یورپ گئیں تو وہ ان کی صداقت کا اعتراف کرتے گو ساتھ ہی یہ بھی کہتے کہ ابھی ہم ان کو قبول نہیں کر سکتے۔ سوسائٹی اور رسم و رواج کی وجہ سے انہیں قبول کرتے ہوئے ڈر آتا ہے۔ غرض اس سفر میں ایسی کامیابی حاصل ہوئی ہے کہ جو انسانی وہم و خیال سے بالا تر ہے اور جس بات کی طرف میں سرزمین ہند پر قدم رکھتے ہوئے جماعت کو توجہ دلاتا آیا ہوں اور آج بھی دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ساری کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور وہی حقیقی شکریہ کا مستحق ہے۔ اور جماعت کو تیار ہو جانا چاہئے کہ خدا نے جو بیج بویا ہے اس کی آب پاشی کریں۔ یہ بیج میسر نہ آسکتا تھا اگر اس سفر کے بغیر کوشش کرتے رہتے۔ لیکن خدا تعالٰی نے ایسے سامان کر دیئے کہ بیچ میسر آ گیا۔ اب جب کہ بیج اس نے بو دیا ہے اگر ہم اپنے اعمال اور قربانیوں کا پانی نہیں دیں گے تو بار آور نہیں ہو گا۔ کیا کوئی بیج بغیر پانی کے اُگ سکتا ہے ، ہرگز نہیں۔ اسی طرح اس پیج کے متعلق سمجھنا چاہئے۔ میں نے اس مجلس شوری میں جس میں سفر یو رپ کا سوال پیش ہوا تھا کہا تھا کہ اگر سفر کیا گیا تو پھر ان ممالک کی طرف بہت توجہ کرنی پڑے گی اور بہت سا روپیہ خرچ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ میں جاؤں، بیج بویا جائے اور پھر آب پاشی نہ کروں اور پیج کو بھی ضائع کردوں۔ دیکھو جو زمیندار دانہ بو کر پانی نہیں دیتا اس کا بویا ہو ا د ا نا بھی ضائع ہو جاتا ہے۔ مگر جو پانی دیتا ہے وہ وہی دانہ نہیں لاتا جو ہوتا ہے بلکہ اس سے بیسیوں گئے زیادہ لاتا ہے۔ پس بیج بونے کے بعد اس کی حفاظت اور آب پا آب پاشی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہ خود سمجھ لو کہ جو بیج ساری دنیا میں بکھیرا گیا اس کے لئے کتنے پانی اور کس قدر نگہداشت کی ضرورت ہے۔ پس اس سفر میں جو کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں وہ آئندہ قربانیوں کا پیش خیمہ ہیں۔ یہی وہ پیغام ہے جس کی طرف میں نے آج صبح اشارہ کیا تھا اور یہی وہ پیغام ہے جس کی طرف میں اس وقت اور زیادہ جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ جماعت کو اب ۔ جماعت کو اب پہلے کی نسبت بیسیوں گنا زیادہ کام قربانیاں کرنا چاہئیں۔ اب کام بہت زیادہ بڑھ گیا ہے ۔ بیج اس قدر وسیع علاقہ میں پھیلایا گیا ہے کہ ہم اسے پانی نہیں دے سکتے اور انتہائی زور لگا کر بھی نہیں دے سکتے ۔ مگر یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ جب کوئی جماعت اس کے رستہ میں اپنا پورا زور اور ساری قوت صرف کر دیتی ہے تو پھر خدا تعالیٰ اپنی تائید اور نصرت بھیج کر وہ کام کر دیتا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی کو کوئی کے تمہارے پاس جتنے پیسے ہیں وہ دے دو باقی میں اپنے پاس سے ڈال کر تمہیں فلاں چیز لے