انوارالعلوم (جلد 8) — Page 621
انوار العلوم جلد ۸ ۶۲۱ دورہ یورپ دوں گا۔ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ اسی طرح کرتا ہے۔ جو بندے اپنا سب کچھ دے ڈالتے ہیں ان کی کمی خدا پوری کر دیتا۔ اپوری کر دیتا ہے۔ لیکن جو اپنے پاس رکھ لے اسے خاص مدد نہیں دیتا۔ حضرت خلیفہ المسیح اول سناتے کہ ایک ہندوستانی ایک عرب کے پاس گیا اور جا کر کہا میں بہت بھوکا ہوں اور میرے پاس کچھ نہیں ہے مجھے کچھ کھانے کو دو۔ اس کا تربوز کا چھوٹا سا کھیت تھا جس میں سے اس نے سب اچھے اچھے تربوزا سے کھلا دیئے۔ جب وہ کھا چکا تو اسے کہا کھڑا ہو جا اور اس کی تلاشی لی۔ ہندوستانی کو اس پر بہت تعجب ہوا اور اس نے کہا۔ یہ تم نے کیا کیا۔ عرب نے کہا میں نے جو کچھ تمہیں کھلایا وہ تو مہمان نوازی کے فرض کو ادا کیا لیکن چونکہ یہ کھیت میرے بال بچوں کے لئے سال کی خوراک تھی۔ رؤوسا کے پاس میں تربوز لے جاتا اور گزارہ چلاتا ۔ اب یہ فصل ماری گئی ہے اس لئے میں نے تلاشی لی کہ تا معلوم کروں تو نے سچ کہایا جھوٹ ۔ اگر سچ ثابت ہو گیا تو خیال کر لیتا کہ اگر کھیت اُجڑ گیا ہے تو کیا ہوا ایک مہمان کی تو جان بچالی لیکن اگر ایک پیسہ بھی تمہارے پاس سے نکل آتا تو میں تجھے قتل کر دیتا کہ تو نے اسے بچایا اور میرے بیوی بچوں کا قاتل بنا۔ خدا تعالیٰ بھی اپنے بندوں سے اسی رنگ میں سلوک کرتا ہے۔ جب وہ اس کی راہ میں اتنی قربانی اور اس قدر ایثار کریں کہ ان کے پاس کچھ نہ رہے تو پھر خواہ کروڑوں کروڑ روپیہ کی ضرورت ہو خود مہیا کر دیتا ہے۔ لیکن اگر قربانی میں کسر رہے تو خدا کی نصرت بھی نہیں آتی۔ پس میں آپ لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اس سفر میں جو کامیابیاں ہوئی ہیں ان کے شکریہ کو عملی جامہ پہنائیں۔ اس وقت جو مالی مشکلات درپیش ہیں، انہیں دور کرنے کی کوشش کریں۔ اب پہلے سے بھی زیادہ توجہ ، اخلاص ، محبت اور اتحاد کی ضرورت ہے۔ ۔ اس اس - کے لئے جماعت کو ابھی سے کوشش شروع کر دینی چاہئے۔ آخر میں مضمون ختم کرنے سے پہلے میں اس سفر کے ساتھیوں کے متعلق بھی یہ اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ جہاں تک ان سے ہو سکا انہوں نے کام کیا۔ انسانوں سے غلطیاں ہوتی ہیں اور ان سے بھی ہوتی ہیں۔ میں ان پر بعض اوقات ناراض بھی ہوا ہوں مگر میری ناراضگی کی مثال ماں باپ کی ناراضگی کی سی ہے۔ جو ان کی اصلاح اور اس سے بھی زیادہ پُر جوش بنانے کے لئے ہوتی ہے۔ مگر انہوں نے اچھے کام کئے اربڑے اخلاص کا نمونہ دکھایا ہے اور میرے نزدیک وہ جماعت کے شکریہ کے مستحق ہیں۔ خصوصاً اس لئے کہ میرے جیسے انسان کے ساتھ انہیں کام کرنا پڑا۔