انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 619 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 619

انوار العلوم جلد ۸ ۶۱۹ دورہ یورپ نہ دکھاتے تو ہم کہہ سکتے تھے کہ ان کو غلطی لگ گئی ہے۔ مگر انہوں نے کہا کہ اگر اسلام کی تعلیم پر عمل کرو گے تو تمہیں بھی الہام ہو سکتا ہے ۔ پھر ہم نے اس پر عمل کیا اور ہمیں الہام ہوا۔ اب ہم کیونکر اس کا انکار کر سکتے ہیں۔ یہ سن کر وہ کہنے لگا تو یہ بڑے غور کی بات ہے۔ گویا وہ حضرت مسیح موعود کی کتاب کو پڑھ کر متاثر ہوا کیونکہ اس نے آپ کی زندگی نہ دیکھی تھی۔ مگر میرے ساتھ کلام کر کے اس طرح نہیں کہہ سکتا تھا کیونکہ مجھے وہ دیکھ رہا تھا۔ پس مغرب کے لوگوں میں کوئی چیز اگر یقین پیدا کر سکتی ہے تو وہ نمونہ ہے اور اس شخص کے حالات جس کو دیکھا ہو۔ کچھ ہندوستانیوں سے گفتگو ہوئی کہنے لگے۔ کیوں نہ کہا جائے کہ مرزا صاحب کے دماغ میں نقص تھا۔ میں نے کہا کیا تم میرے دماغ میں نقص سمجھتے ہو ؟ کہنے لگے نہیں۔ میں نے کہا کہ مجھے بھی الہام ہوئے ہیں۔ اس کا وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔ تو لوگوں پر سب سے زیادہ اثر کرنے والی بات یہی ہے کہ حضرت مرزا صاحب نَعُوذُ بِاللهِ مداری کی طرح نہیں آئے تھے کہ تماشہ کر کے چلے گئے بلکہ وہ فیوض جو انہیں حاصل تھے ہمارے لئے بھی چھوڑ گئے ۔ اسی سفر پر جاتے وقت میں نے کہا تھا کہ بعض رنج وہ اور افسوس ناک باتیں مجھے بتائی گئی ہیں چنانچہ ان چار ماہ میں اس قدر افسوس ناک واقعات ہوئے ہیں کہ اگر گذشتہ دس سال کے ایسے واقعات کو جمع کیا جائے تو بھی اس قدر نہیں ہو سکتے۔ سفر شام کے متعلق بھی میں نے رویا دیکھی تھی کہ ساتھیوں کو کچھ مشکلات پیش آئی ہیں۔ چنانچہ جب حیفہ آئے تو عرفانی صاحب اور چودھری فتح محمد صاحب بہائیوں کو ملنے کے لئے چلے گئے حالانکہ آدھ گھنٹہ تک گاڑی آنے والی تھی اور وہ آخری گاڑی تھی جس کے ذریعہ جہاز پر پہنچ سکتے تھے مگر وہ چلے گئے اور پھر گاڑی سے رہ گئے۔ حیفہ کے گورنر نے سپیشل گاڑی کے ذریعہ انہیں بھجوایا اور ہر طرح مدد کی۔ مگر اس گاڑی کا انجن خراب ہو گیا اور وہ رہ گئے اور ثابت ہو گیا کہ باوجود کوشش اور سعی کے وہ بات پوری ہوئی جو مجھے بتائی گئی تھی اور ظاهری سامان بے کار ثابت ہوئے۔ یہ نظارے ہیں جنہوں نے اس سفر میں بھی یقین دلا دیا کہ حضرت مسیح موعود کے تعلق سے وہ باتیں حاصل ہو سکتی ہیں جن کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دعویدار تھے۔ دو سرا سوال یہ حل ہوا کہ میں اس خطرہ کو اپنے دل میں لے کر گیا تھا کہ یورپ اسلام کی ننگی تعلیم کو قبول نہیں کر سکتا اور آیا اس یقین کے ساتھ ہوں کہ یقینا قبول کر سکتا ہے۔ ایسی باتیں جن پر اہل یورپ اعتراض کرتے ہیں جب حقیقی شکل میں معقولیت کے ساتھ ان کے سامنے بیان کی