انوارالعلوم (جلد 8) — Page 618
انوار العلوم جلد ۸ اخباروں میں چھپا ہے۔ ۶۱۸ دورہ یورپ میرے نزدیک اس سفر سے بڑے بڑے فوائد کے علاوہ جن میں بعض کا ذکر مولوی شیر علی صاحب نے کیا ہے بعض چھوٹے فوائد بھی ہوئے ہیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ میرے سفر پر جانے پر کئی نئے شاعر پیدا ہو گئے ہیں۔ خصوصاً ہماری ہمشیرہ شاعرہ ہو گئی ہیں۔ یہ بھی علمی ترقی ہے۔ دوسرے یہ بھی علمی ترقی کی علامت ہے کہ الفضل کا خاص نمبر شائع ہوا ہے۔ پہلے ہمارے اخبارات کے جو خاص نمبر شائع ہوتے وہ تو ایسے خاص بلکہ اخص ہوتے کہ شاید ہی کوئی ان سے مزا حاصل کرتا ہو ۔ مگر الفضل کے اس پرچہ میں اچھی اچھی نظمیں اور مضامین شائع ہوئے ہیں۔ یہ بھی پہلے کی نسبت ترقی ہے۔ میں نے اس سفر پر جاتے وقت کہا تھا کہ احباب نام لکھ دیں ان کے لئے دعا کی جائے گی چنانچہ دوستوں نے نام لکھ نے نام لکھ دیئے ۔ اس تحریک میں۔ سب سے زیادہ حصہ بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کا ہے۔ جو روز سب کے نام لکھ کر دے دیتے اور یوں بھی یاد دلاتے رہتے۔ میں نے نیت یہ کی تھی که ۴۰ دفعه کم از کم اس سفر میں احباب کے لئے دعا کروں گا۔ مگر خدا کے فضل سے پچاس بلکہ اس سے بھی زیادہ دفعہ دعا کرنے کا موقع ملا اور جنھوں نے نام نہیں لکھوائے تھے ان کو بھی چھوڑا نہیں بلکہ سب کے لئے دعا کرتا رہا ہوں۔ اس سفر سے دو بڑے اہم سوال بھی حل ہو گئے اور ان کی وجہ سے سب سے بڑی خوشی حاصل ہوئی ۔ ایک تو یہ کہ کہا جاتا کہ مغرب میں مسیح موعود کا ذکر سم قاتل ہے ۔ مگر ہم پر اس سفر کی وجہ سے یہ کھلا ہے کہ سوائے حضرت مسیح موعود کے ذکر کے مغرب کی مرضوں کا کوئی علاج ہی نہیں ۔ وہ لوگ پرانی چیزوں کو لاش کی طرح سمجھ کر اسی طرح چیرتے پھاڑتے ہیں جس طرح مردہ کو چیرا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ تازہ چیز کو دیکھتے اور اس کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت سمجھتے ہیں۔ جہاز کا ہی واقعہ ہے ۔ ہمارا ہم سفر ایک بہت بڑا تاجر تھا جو میرے ساتھ کھانے کی میز پر بیٹھا کرتا تھا۔ میں نے اسے لیکچر مہو تو دیا ۔ کہ پڑھو۔ دوسرے دن کہنے لگا۔ میں نے پڑھا ہے مگر میرا ایک سوال ہے اور وہ یہ کہ کیا آپ جیسا سنجیدہ اور روشن دماغ انسان بھی یہ خیال کر سکتا ہے کہ الہام ہو سکتا ہے میں نے کہا کہ میرا سنجیدہ اور روشن دماغ ہونا ہی مجھے مجبور کرتا ہے کہ میں تسلیم کروں الہام ہوتا ہے۔ کہنے لگا کس طرح؟ میں نے کہا۔ دیکھو اگر سورج نکلا ہوا ہو اور ایک شخص دکھا دے تو یہی کہیں گے کہ نکلا ہوا ہے۔ اسی طرح اگر حضرت مرزا صاحب یہی کہتے کہ الہام ہوتا ہے اور ہمیں