انوارالعلوم (جلد 8) — Page 27
انوار العلوم جلد ۸ ۲۷ بہائی فتنہ انگیزوں کا راز کیونکر فاش ہوا؟ صاحب نے میرے علم میں کبھی کوئی ایسا کام نہیں کیا جو بہائی مذہب کے مطابق اور خلاف اسلام ہو۔ انہوں نے سود کے متعلق یہ کہا ہے کہ قرآن شریف سے ایسا ثابت نہیں ہوتا جیسا کہ لوگ کہتے ہیں کہ قطعاً بند ہے۔ انہوں نے تعدد ازدواج کے متعلق یہ رائے دی ہے کہ تعدد ازدواج نہیں چاہئے۔ پردے کے متعلق بھی وہ اس سختی کے قائل نہیں جو مروجہ ہے ۔ مولوی صاحب کے ساتھ قیامت کے وجود کے متعلق کبھی گفتگو نہیں ہوئی۔ شیخ یعقوب علی صاحب نے فہرست مضامین قرآنی طاقتوں کا جلوہ گاہ دکھائی اور سوال کیا سے کہ ان مضامین کے متعلق آپ کو کیا علم ہے ۔ مہر محمد خاں صاحب نے جواب دیا کہ ان میں ۔ بعض کے متعلق مولوی محفوظ الحق صاحب سے گفتگو ہو چکی ہے ۔ ان میں سے نفخ صور، معیار صداقت، انتشار روحانیت وحدت احکام کے متعلق تذکرہ ہوا ۔ منشی اللہ دتہ عمر کے خط کو میں نہیں پہچانتا۔ برہان صریح میں نے غلام رسول صاحب اور ماسٹر نذیر احمد صاحب کو پڑھنے کے لئے دی۔ ماسٹر صاحب کے ساتھ بہائی مذہب کا ذکر ہوا تھا، تب کتاب دی تھی عیدا دھوبی کے مکان پر جہاں ماسٹر اللہ دتہ رہتے ہیں اور علمی صاحب ایک دفعہ رات کو گئے تھے ۔ عشاء سے تھوڑا بعد ۔ غالبا عشاء کے وقت۔ مولوی صاحب کو ان سے ملنا تھا۔ میں بھی ساتھ چلا گیا۔ ماسٹر اللہ دتہ وہاں حضرت صاحب کی کتابیں پڑھ رہے تھے۔ مولوی اللہ دتہ کے پاس جو نوٹ بک ہے۔ میں نے دیکھی ہے ۴۔ مارچ سے میں نے کوئی روزہ نہیں رکھا۔ دستخط) مہر محمد خان شهاب ان بیانات کے بعد تجویز ہوئی۔ کہ مہر محمد خاں کو دوبارہ بلا کر موقع دیا جائے کہ اگر اسے کچھ تردد ہو تو سمجھایا جائے۔ اس پر جو کار روائی ہوئی وہ یہ ہے۔ (نوٹ) مہر محمد خاں کو دوبارہ بلا کر پوچھا گیا کہ اگر وہ کسی حالت تردد میں ہو تو اس کو سمجھایا جائے اس نے کہا کہ میں فیصلہ کر چکا ہوں اور میں اس پر کچھ بحث و گفتگو کرنا نہیں چاہتا۔ اور مولوی محفوظ الحق صاحب کا سارا بیان مہر محمد خاں کو سنایا گیا اور اس نے اس کی تائید کی اور کہا میں بہاء اللہ کو راستباز سمجھتا ہوں جو کچھ اس نے کہا میں سب مانتا ہوں۔