انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 28

انوار العلوم جلد ۸ ۲۸ بھائی فتنا تمیزون کار از کیونکر فاش ہوا؟ بیان اللہ دتہ میرا نام عبد الصمد ہے۔ میرا سابق نام اللہ دتہ ہے میں بھائی نہیں ہوں۔ میں بہاء اللہ کو اس کے دعاوی میں نہ سچا سمجھتا ہوں اور نہ جھوٹا کیونکہ میری تحقیقات ابھی نا مکمل ہیں ۔ آج میں نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے جو کہ میرے ذاتی خیال کے ماتحت ہے نہ کہ کسی تعلیم کے ماتحت۔ میں بہائی مذہب کی طرف مائل نہیں ہوں۔ مولوی علمی کے مائل ہونے کا مجھے علم نہیں ہے۔ میں اس بات کا قائل ہوں کہ آنحضرت صلعم کے بعد شرعی نبی بھی آسکتا ہے لیکن کوئی ایسا نبی آج تک مبعوث نہیں ہوا۔ لیکن بہاء اللہ کا دعوئی قابل غور ہے ۔ میں حضرت مرزا صاحب کو نبی نہیں مانتا۔ میں ان کو مسیح اور نبی دونوں مانتا ہوں۔ حضرت مرزا محمود احمد صاحب کو ان کا سچا جانشین مانتا ہوں۔ اگر وہ کہیں کہ بہاء اللہ کا دعویٰ غلط ہے تو میں مرزا محمود احمد صاحب کی بات کو نہیں مانوں گا جب تک کہ میری تحقیقات مکمل نہ ہو۔ میں اس وقت تک کچھ نہیں کہہ سکتا۔ میں بہاء اللہ کو مفتری نہیں کہہ سکتا میں اس کو پاگل نہیں کہتا یا سمجھتا۔ یہ مسئلہ کہ اسلام کا کوئی مسئلہ قابل نسخ ہے۔ اگر چہ قابل غور ہے لیکن ابھی تک جو میں نے غور کیا وہ یہی ہے کہ دور اسلام ختم نہیں ہے۔ میں مصلحتا اب اسلامی کام کرتا ہوں۔ مصلحت یہ ہے کہ تحقیقات مکمل نہیں اور نامکمل تحقیقات کی حالت میں فتنے کا اندیشہ ہے۔ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کسی پیشگوئی کی نسبت یہ نہیں سمجھتا کہ وہ پوری نہیں ہوئی۔ میں مسیح موعود اور مہدی دو اشخاص کو سمجھتا ہوں۔ میں حضرت مرزا صاحب کو ظلی مسیح موعود سمجھتا ہوں لیکن مہدی موعود نہیں سمجھتا۔ میں حضرت صاحب کو ظلی مہدی موعود سمجھتا ہوں۔ میں حدیث لا مَهْدِيَّ إِلَّا عیسی کو سچا نہیں سمجھتا۔ میں حضرت مرزا صاحب کو ظلی مسیح اور ظلی مہدی سمجھتا ہوں۔ یہ بات میری تحقیق کی رو سے ہے اور اس وقت تک میرا یہ خیال ہے کہ اصل مسیح اور اصل مهدی کوئی اور ہیں جن کا مرزا صاحب ظل ہیں خواہ وہ حضرت باب یا بہاء اللہ ہیں یا کوئی اور ہے۔ اصل پہلے ہوتا اور ظل بعد میں۔ اصلی مسیح موعود و مہدی موعود پہلے گزر چکے ہیں جن کے مرزا صاحب ظل تھے اور مصدق بھی تھے۔ حضرت مرزا صاحب کی تحریروں سے یہ نکلتا ہے کہ وہ اصل مہدی فارس میں ہو چکا ہے ۔ مرزا صالح علی کو میں جانتا ہوں۔ سید محمد عبد اللہ کو بھی جانتا ہوں۔ اس کو میں نے کتاب " برہان الصریح " پڑھنے کے لئے دی تھی۔ مولوی محفوظ الحق صاحب