انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 557 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 557

انوار العلوم جلد ۸ ۵۵۷ دورہ یورپ گھوڑے کو ایڑ لگائی اور دشمن کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ جو ساتھی باقی رہ گئے تھے وہ گھبرا گئے اور اُتر کر آپ کے گھوڑے کی باگیں پکڑلیں اور کہا۔ حضور! اس وقت دشمن فاتحانہ بڑھا چلا آ رہا ہے اسلامی لشکر بھاگ چکا ہے آپ کی جان پر اسلام کا مدار ہے پیچھے ہٹے تا کہ اسلامی لشکر کو جمع ہونے کا موقع ملے۔ آپ نے فرمایا کہ میرے گھوڑے کی باگ چھوڑ دو اور پھر بلند آواز سے کہا۔ میں خدا کا نبی ہوں اور جھوٹا نہیں ہوں کون ہے جو مجھے نقصان پہنچا سکے؟ یہ کہہ کر دشمن کے لشکر کی طرف ان ۱۶ آدمیوں سمیت بڑھنا شروع کیا جو آپ کے ساتھ رہ گئے تھے مگر دشمن آپ کو نقصان نہ پہنچا سکا۔ پھر آپ نے ایک شخص کو جو بلند آواز والا تھا کہا کہ بلند آواز سے کہو۔ کہ ان اہل مدینہ ! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔ ایک صحابی کہتا ہے کہ ہمارے گھوڑے اور اونٹ اس وقت سخت ڈرے ہوئے تھے اور بھاگے جاتے تھے۔ ہم ان کو واپس موڑتے تھے اور وہ مڑتے نہ تھے ۔ جس وقت یہ آواز آئی اس وقت یکدم ہماری حالت ایسی ہو گئی گویا ہم مردہ ہیں اور خدا کی آواز ہمیں بلاتی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس آواز کے آتے ہی میں بے تاب ہو گیا۔ میں نے اپنے اونٹ کو واپس لے جانا چاہا مگر وہ باگ کے کھینچنے سے زہرا ہو جاتا تھا مگر مڑتا نہ تھا میرے کان میں یہ آواز گونج رہی تھی کہ خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔ جب میں نے دیکھا کہ اونٹ مجھے دُور ہی ڈور لئے جاتا ہے تو میں نے تلوار نکال کر اس کی گردن کاٹ دی اور پیدل دیوانہ وار اس آواز کی طرف بھاگ پڑا اور بے اختیار کرتا جاتا تھا کہ حاضر ہوں حاضر ہوں۔ وہ کہتا ہے کہ میں حال سب لشکر کا تھا۔ جو سواری کو موڑ سکا وہ اس کو موڑ کر آپ کے پاس آگیا اور جو سواری کو نہ موڑ سکا وہ سواری سے کود کر پیدل دوڑ پڑا۔ جو یہ بھی نہ کر سکا اس نے سواری کو قتل کر دیا اور آپ کی طرف دوڑ پڑا۔ اور چند ہی منٹ میں سب لوگ اسی طرح آپ کے گرد جمع ہو گئے جس طرح کہ کہتے ہیں کہ مردے اسرائیل کے صور پر قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ جنگ کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کا یہ سوال ہے مجھے تم یہ آپ لڑائی ہمیشہ مسلمان کبھی پہلے خود حملہ نہ کرے ہمیشہ دفاعی طور پر لڑے اور یہ کہ عورتوں کو نہ ماریں، بچوں کو نہ ماریں، پادریوں کو نہ ماریں، بوڑھے اور معذوروں کو نہ ماریں، جو ہتھیار ڈال دیں ان کو نہ ماریں، درخت نہ کائیں ، عمارتیں نہ گرائیں، قصبوں اور گاؤں کو نہ ٹوٹیں اور اگر آپ کو معلوم ہوتا کہ کسی نے ایسی غلطی کی ہے تو اس پر سخت ناراض ہوتے۔