انوارالعلوم (جلد 8) — Page 556
انوار العلوم جلد ۸ ۵۵۶ دورہ یورپ کہا کہ آپ خیریت سے ہیں یہ بات سن کر اس کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا اور اس نے کہا کہ اب میں خوشی سے جان دوں گا۔ پھر اس عزیز کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ میری ایک امانت ہے وہ میرے عزیزوں کو پہنچا دینا اور وہ یہ ہے کہ ان سے کہنا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالی کی امانت ہے اس کی حفاظت تمہارے ذمہ ہے۔ دیکھنا اس کی حفاظت میں کوتاہی نہ کرنا۔ اور یہ کہہ کر مسکراتے ہوئے جان دے دی۔ ۵۵ یہ تو مردوں کی وفاداری کا حال ہے عور ایک وفادار مؤمن عورت کا واقعہ یہ تو عورتیں بھی اس سے کم نہ تھیں ۔ مدینہ میں بھی یہ خبر پہنچ گئی تھی کہ آپ شہید ہو گئے ہیں اور سب عورتیں اور بچے شہر سے نکل کر میدان جنگ کی طرف گھبرا کر چل پڑے تھے۔ اتنے میں ان کو اسلامی لشکر ملا جو خوشی سے آپ سمیت واپس لوٹ رہا تھا۔ ایک عورت نے ایک سپاہی سے آگے بڑھ کر پوچھا کہ رسول الله علی کریم کا کیا حال ہے؟ اسے چونکہ معلوم تھا کہ آپ خیریت سے ہیں اس نے اسکی پرواہ نہ کی اور اسے کہا کہ تیرا باپ مارا گیا ہے۔ اس عورت نے کہا کہ میں تجھ سے اپنے باپ کے متعلق نہیں پوچھتی میں محمد لی ایم کی بابت پوچھتی ہوں۔ اس نے پھر بھی پرواہ نہ کی اور کہا کہ تیرے دونوں بھائی بھی مارے گئے ہیں۔ اس نے پھر چڑ کر کہا میں تجھ سے بھائیوں کے متعلق نہیں پوچھتی ۔ اس نے کہا کہ وہ تو خیریت سے ہیں اس پر اس عورت نے کہا کہ الْحَمْدُ لِلہ اگر آپ زندہ ہیں تو سب دنیا زندہ ہے۔ مجھے پرواہ نہیں کہ میرا باپ مارا گیا ہے یا میرے بھائی مارے گئے ہیں۔ میں یہ اخلاص اور یہ محبت اس کامل نمونہ کے بغیر جو آپ نے دکھایا اور اس گہری محبت کے بغیر جو آپ کو بنی نوع انسان سے تھی کس طرح پیدا ہو سکتا ہے؟ ۵۶ حضور کی استقامت اور صحابہ کی بطور نمونہ ایک اور مثال اسی طرح ایک وقعہ اسلامی لشکر ایک پہاڑی میں سے گزر رہا تھا جس کے دونوں طرف دشمن کے تیر انداز چھپے ہوئے تھے۔ مسلمانوں کو اس جگہ کا علم نہ تھا ایک تنگ سڑک درمیان سے گزرتی تھی۔ جب اسلامی لشکر عین درمیان میں آگیا تو دشمن نے تیر مارنے شروع کئے۔ اس اچانک حملہ کا یہ نتیجہ ہوا کہ گھوڑے اور اونٹ ڈر کر دوڑ پڑے اور سوار بے قابو ہو گئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چار ہزار دشمن تیر اندازوں کے اندر صرف ۱۶ آدمیوں سمیت رہ گئے باقی سب لشکر پراگندہ ہو گیا۔ آپ نے اپنے