انوارالعلوم (جلد 8) — Page 558
انوار العلوم جلد ۸ ۵۵۸ دورہ یورپ فتح مکہ کے بعد حضور کا سلوک اپنے دشمنوں سے جب اللہ تعالی نے آپ کو اہل مکہ پر فتح دی تو مکہ کے لوگ کانپ رہے تھے کہ اب نہ معلوم ہمارے ساتھ کیا سلوک ہو گا؟ مدینہ کے لوگ جنہوں نے خود ان تکلیفوں کو نہ دیکھا تھا جو آپ کو دی گئیں مگر دوسروں سے سنا تھا وہ آپ کی تکلیف کا خیال کر کے ان لوگوں کے خلاف جوش میں بھرے ہوئے تھے۔ مگر آپ جب مکہ میں داخل ہوئے تو سب لوگوں کو جمع کیا اور کہا کہ اے لوگو! آج میں ان سب قصوروں کو جو تم نے میرے حق میں کئے ہیں معاف کرتا ہوں تم کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔ اگر جنگیں نہ ہوتیں اور آپ کو ۵۹ بادشاہت نہ ملتی تو آپ کامل بادشاہت نہ ملتی تو آپ کامل نمونہ کس طرح دکھاتے؟ اور انسانی اخلاق کے اس پہلو کو کس طرح دکھاتے؟ اخلاق کے دونوں پہلوؤں کا ذکر فرش کہ جنگوں نے بھی آپ کے اخلاق کے ایک پہلو پر سے پردہ اٹھایا اور آپ کی صلح اور ا اور امن ۔ سے محبت اور آپ کے رحم کو ظاہر کیا کیونکہ سچا رحم کرنے والا اور عفو کرنے والا وہی ہے جسے طاقت ملے اور وہ رحم کرے اور سچائی وہی ہے جسے دولت ملے اور وہ اسے تقسیم کرے۔ آپ کو خدا تعالی نے ظالم بادشاہوں پر فتح دی اور آپ نے ان کو معاف کر دیا۔ آپ کو اس نے بادشاہت دی اور آپ نے اس بادشاہت میں بھی غربت سے گزارہ کر کے اور سب مال حاجت مندوں میں تقسیم کر کے اس بات کو ثابت کر دیا کہ آپ غرباء کی خبر گیری کی تعلیم اس لئے نہیں دیتے تھے کہ آپ کے پاس کچھ تھا نہیں بلکہ آپ جو کچھ کہتے تھے اس پر عمل بھی کرتے تھے۔ مرض الموت میں آپ کی آخری نصیحت آپ نے زندگی کے ہر ایک لمحہ کو خدا کے لئے تکلیف اٹھانے میں خرچ کیا ہے اور گویا آپ روز ہی خدا کے لئے مارے جاتے تھے۔ ۶۳ سال کی عمر میں آپ نے وفات پائی اور بیماری کی حالت میں بھی آپ کو یہی خیال تھا کہ کہیں لوگ میرے بارے میں شرک نہ کرنے لگیں۔ چنانچہ بیماری موت میں آپ بار بار گھبرا گھبرا کر فرماتے تھے کہ خدا برا کرے ان لوگوں کا جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو عبادت کی جگہ بنا لیا ہے۔ یعنی ان نبیوں کو الوہیت کی صفات دے کر ان سے دعائیں وغیرہ مانگتے تھے۔ جس سے آپ کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان ایسانہ کریں اسی طرح شرک کی تردید کرتے ہوئے آپ اپنے پیدا کرنے والے سے جاملے۔